0
2
0
شاعر: علی حمدانی - بیان: یوسف بشیر قریشی

اِک سوچ عقل سے پھسل گئی
مجھے یاد تھی کےبدل گئی
میری سوچ تھی کے وہ خواب تھا
میری زندگی کا حساب تھا
میری جستجو کے بر عکس تھی
میری مشکلوں کا وہ عکس تھی
مجھے یاد ہو تو وہ سوچ تھی
جو نہ یاد ہو تو گُمان تھا
مجھے بیٹھے بیٹھے گُماں ہوا
گُماں نہیں تھا وہ خُدا تھا
میری سوچ نہیں تھی-خُدا تھا وہ
وہ خُدا کے جس نے زباں،دِل دیا جان دی
وہ زباں کے جسے نا چلا سکیں
وہی دِل جسے نا منا سکیں
وہی جاں جسے نا لگا سکیں
کبھی مل تو تُجھے بتا ئیں ہم
تُجھے اس طرح سےستائیں ہم
تیرا عشق تُجھ سے چھین کر
تُجھے مے پِلا کے رُلائیں ہم
تُجھ درد دوں تو نہ سہے َسکے
تُجھے دوں زُباں تو نا کہے سَکے
تُجھے دوں مکاں تو نہ رہے سَکے
تُجھے مشکلوں میں گِھرا کر
میں کوئی ایسا رستا نکال دوں
تیرے درد کی میں دوا کروں
کسی غرض کے میں سوّا کروں
تُجھے ہر نظر پے عُبور دوں
تُجھے زندگی کا شعور دوں
کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر
ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر
تیرے ایک ہونے میں شَک نہیں
میری نِیّتوں کو تُو صاف کر
تیری شان میں بھی کَمّی نہیں
میرے اس کلام کو تُو معاف کر..

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس