1 مارچ, 2021
d8b9d988d8a7d985db8c d8aad986d982db8cd8af d986d8b8d8b1 d8a7d986d8afd8a7d8b2d88c d988d8a7d9b9d8b3 d8a7db8cd9be daa9d8a7 d8a8da91d8a7 d981
سائنس و ٹیکنالوجیبین الاقوامیپاکستانخبریں

عوامی تنقید نظر انداز، واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ

دنیا کی مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جس کی وجہ کمپنی کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی جاری رکھنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق واٹس ایپ نے گزشتہ ماہ صارفین کی شدید تنقید کے بعد نئی پرائیویسی پالیسی مؤخر کردی تھی لیکن اب واٹس ایپ نے کہا ہے کہ وہ اسی پالیسی کو جاری رکھیں گے۔

مقبول میسجنگ ایپلیکیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ وہ صارفین کو اپنے طور پر نئی پرائیویسی پالیسی پڑھنے کی اجازت دیں گے اور اضافی معلومات کی فراہمی کے لیے ایک بینر بھی دکھایا جائے گا۔

d8b9d988d8a7d985db8c d8aad986d982db8cd8af d986d8b8d8b1 d8a7d986d8afd8a7d8b2d88c d988d8a7d9b9d8b3 d8a7db8cd9be daa9d8a7 d8a8da91d8a7 d981 1

کمپنی کی جانب سے اس پالیسی کو گزشتہ ماہ 8 فروری نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور صارفین کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں اسے لازمی قبول کرنا ہو گا، بصورت دیگر ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیئے جائیں گے۔

واٹس ایپ کی نئی پالیسی کیا ہے؟

نئی پرائیویسی پالیسی کے مطابق صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کر کے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینج کر سکیں گے جبکہ فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جا سکے گا۔

عوامی ردعمل اور واٹس ایپ کا یوٹرن

واٹس ایپ کی پالیسی پر دنیا بھر میں صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی اور اس کی حریف ایپس ٹیلیگرام اور سگنل کے صارفین کی تعداد میں بھی بہت بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

بعد ازاں واٹس ایپ انتظامیہ نے وضاحت کی تھی کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کو نہ تو فروخت کریں گے اور نہ ہی اس تک ان کی رسائی ہے، جس کے بعد کمپنی نے 16 جنوری کو اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کے فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے عوام کو پالیسی پر آرام سے نظرثانی کرنے کی درخواست کی تھی۔

 میسیجنگ ایپ کی انتظامیہ نے مذکورہ تنقید کے طوفان کو کم کرنے کے لیے اپنے اسٹیٹس کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا اور 28 جنوری کی صبح دنیا بھر میں لوگوں کو واٹس ایپ کے آفیشل اسٹیٹس اپنے اکاؤنٹ پر نظر آئے تھے۔

اب اپنے حالیہ بلاگ میں واٹس ایپ نے کہا کہ وہ صارفین کو میسجنگ پلیٹ فارم کا استعمال جاری رکھنے کے لیے اپ ڈیٹس جائزہ لینے اور اسے قبول کرنے کی یاد دہانی کرانا شروع کریں گے، جس کا مقصد نئی پالیسی سے متعلق پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرنا اور ان کے حل کے لیے مزید معلومات بھی شامل کرنا ہے۔

واٹس ایپ کا مذکورہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اس کی پیرنٹ کمپنی فیس بک نے آسٹریلیا کے خبررساں اداروں کے مواد کو سوشل سائٹ پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کی ہے جس پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے