26 جنوری, 2021
d9bed8b1d8a7d8a6db8cd988db8cd8b3db8c d9bed8a7d984db8cd8b3db8c d988d8a7d9b9d8b3 d8a7db8cd9be d986db92 d8a7d981d988d8a7db81d988daba daa9
سائنس و ٹیکنالوجیبین الاقوامیخبریں

پرائیویسی پالیسی: واٹس ایپ نے افواہوں کی ’100 فیصد‘ تردید کر دی

پیغام رسانی اور انٹرنیٹ آڈیو، ویڈیو کالنگ کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ انتظامیہ نے پرائیویسی پالیسی کی تبدیلی کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں پر وضاحت جاری کر دی۔

واٹس ایپ کو ان دنوں صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ پرائیویسی پالیسی کی تبدیلی ہے کیونکہ انتظامیہ نے واضح کیا کہ جو صارف اس پالیسی سے اتفاق نہیں کرے گا وہ 9 فروری کے بعد اکاؤنٹ سے محروم ہو جائے گا یعنی اُس کا نمبر بلاک کر دیا جائے گا۔

واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب کے قریب صارفین ہیں، جن کے پاس مرحلہ وار سیکیورٹی پرائیویسی تبدیلی کا پیغام بھیجا گیا، جن صارفین نے اس سے اتفاق کیا انہوں نے کمپنی کو بہت ساری چیزوں کی اجازت دے دی۔

نئی پالیسی سامنے آنے کے بعد یہ افواہیں زیرگردش تھیں کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین سے تمام قسم کے ڈیٹا کی منتقلی کی اجازت مانگ لی ہے جس کے بعد کمپنی اپنی مرضی سے یہ تفصیلات فیس بک سمیت کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فروخت کر سکتی ہے۔

اس سے قبل واٹس ایپ کے سربراہ بھی صارفین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا تفصیلی جواب دے چکے ہیں مگر سوشل میڈیا پر یہ معاملہ تاحال زیر بحث ہے۔

اب منگل کے روز واٹس ایپ کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی جس کو انہوں نے ’کچھ افواہوں‘ کا جواب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ صارفین کا ڈیٹا مکمل محفوظ ہے، اُن کے پیغامات انکرپٹڈ ہی رہیں گے۔

اس سے قبل میسیجنگ ایپ یہ کہہ چکی ہے کہ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کی موجودگی کی صورت میں صارف کی گفتگو کو پہلے کی طرح واٹس ایپ سمیت کوئی بھی کمپنی نہیں دیکھ سکے گی۔

واٹس ایپ کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے اہم نکات:

واٹس ایپ، فیس بک سمیت کوئی بھی کمپنی صارف کے پرائیوٹ میسجز یا کالز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔

واٹس ایپ کے پاس یہ ریکارڈ ظاہر نہیں ہو گا کہ صارف کے پاس کس کا پیغام یا کال آئی۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ واٹس ایپ اور فیس بک صارف کی شیئر کردہ لوکیشن نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی کوئی اُس کی مانیٹرنگ کا مجاز ہو گا۔

صارف کے واٹس ایپ پر موجود نمبر فیس بک سمیت کسی بھی کمپنی کے ساتھ شیئر نہیں کیے جائیں گے۔

واٹس ایپ کے تمام گروپس پرائیوٹ رہیں گے اور اُن کی چیٹ تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہو گی۔

صارف کو یہ اختیار بھی حاصل ہو گا کہ وہ موصول ہونے والے میسج خود بہ خود غائب کرنے کی سہولت سے استفادہ کر سکتا ہے، ایسے پیغامات متعلقہ وقت کے بعد سسٹم سے بھی خود بہ خود ختم ہو جائیں گے۔

صارف اپنا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر سکے گا۔ جس کے ذریعے وہ یہ دیکھ سکے گا کہ واٹس ایپ کے پاس اس کی کون کون سی ذاتی معلومات موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے