1 مارچ, 2021
2
سیاستپاکستانخبریںسیالکوٹلاہور

مسلم لیگ ن کی الیکشن کمیشن سے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کی استدعا

مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کر دی اور کہا الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی دستاویز ہے، جس میں اعلٰی ترین سطح پر دھاندلی کی نشاندہی کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق این اے 75 انتخابات اور نتائج کیس سے متعلق الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن سماعت کر ارہا ہے۔

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا دوران پولنگ اچانک کرونا ایس او پیس نافذ کر دیے گئے اور علاقہ میدان جنگ بنایا گیا، ڈی پی او نظر ہی نہیں آئے۔

ریٹرننگ آفیسر بھی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 337 پولنگ اسٹیشن کا ریکارڈ ساڑھے 3 بجے تک آر این ایس میں آ چکا تھا، صورتحال بہت خراب تھی، لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ہمارے کمپیوٹرز کو نقصان کا خطرہ تھا۔

دیگر پولنگ سٹیشنز کے نتائج بھی آتے رہے، واٹس ایپ پر بھی نتائج آتے رہے، نتائج 3 سے 6 بجے تک موصول ہوئے، صرف 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کا مسئلہ تھا، میں نے پولیس افسران سے رابطہ کیا، کوئی جواب نہیں ملا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کیا کوئی وائرلیس رابطوں کے انتظامات تھے؟ آر او نے جواب میں کہا جی ایسا کوئی انتظام نہیں تھا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا گیا، این اے 75 میں فائرنگ ہوئی لوگوں کی جانیں گئیں، تمام لاپتہ پریذائڈنگ افسران ایک ساتھ ہی سامنے آئے، بات صرف 20 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی نہیں۔

مسلم لیگ ن نے این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کر دی، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی دستاویز ہے، پریس ریلیز میں اعلٰی ترین سطح پر دھاندلی کی نشاندہی کی گئی، آئی جی، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت سب ہی لاپتہ تھے، پہلا الیکشن ہے جہاں 20 پریزائیڈنگ افسران غائب اور جس ڈی ایس پی کو الیکشن کمیشن نے ہٹایا تھا، ایس پی بنا کرتعینات کیا گیا۔

ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ پریذائیڈنگ افسران کی گمشدگی اس دھاندلی سے توجہ ہٹانے کیلئے تھی، الیکشن کمیشن کی ڈسکہ الیکشن پر پریس ریلیز تاریخی ہے، کورونا ایس او پی کو ووٹرزکو ووٹ ڈالنے سے روکنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ 337 پولنگ اسٹیشنز کا اندراج ساڑھے 3 بجے تک ہوچکا تھا، پونے 2 بجے تک 305 پولنگ اسٹیشن کے نتائج آگئے، حلقےمیں 360 پولنگ اسٹیشن ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے آر او سے استفسار کیا آپ نے ایس او ایس کال کی ؟آپ گھبرائے ہوئے تھے، کیا صورتحال تھی ؟ پولیس کو آپ نے کال کی۔

ریٹرننگ افسر نے کہا کہ تیسری بار آر او کے فرائض سر انجام دیے، ممبر الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے سوال کیا کیا موصول فارم 45 کی تفصیلات آپ نے دی ہیں، جس پر ریٹرننگ افسر نے جواب میں کہا تفصیلات فراہم کی جا چکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے