بدھ, جون 16
2
سکھرپاکستانخبریںسندھ

روہڑی ٹرین حادثہ، ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی

کراچی ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی، ٹریک کی خستہ حالی کے باعث کراچی ایکسپریس کی بوگیاں ڈی ریل ہوئیں تھیں۔

اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہر روہڑی کے قریب گزشتہ روز ہونے والے ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے بعد 490 کلو میٹر پر ٹریک کی فش پلیٹ تازہ ٹوٹی پائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 490 کلو میٹر پر ڈیڑھ فٹ ٹریک کا ٹکڑا ٹوٹا ہوا پایا گیا، کوچ نمبر 12306 اور 12412 کے درمیان کپلنگ ٹوٹا ہوا تھا، ٹریک کمزور ہونے کے باعث انجینئرنگ رکاوٹ اور اسپیڈ 65 کلو میٹر مقرر تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور نے کاشن انڈیکیٹر کا مشاہدہ کیا اور سپیڈ 65 کلو میٹر پر کنٹرول کے لیے بریک لگایا، ٹرین 2402 فٹ گھسیٹی گئی جو ظاہر کرتی ہے کہ اوور سپیڈ تھی۔d8b1d988db81da91db8c d9b9d8b1db8cd986 d8add8a7d8afd8abdb81d88c d8a7d8a8d8aad8afd8a7d8a6db8c d8b1d9bed988d8b1d9b9 d8b3d8a7d985d986db92 1

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انجن ڈیٹا اور ٹریک فرانزک رپورٹ سے ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا، حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیر ریلوے کو بھجوا دی گئی۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ کی تحصیل پنوں عاقل کے قریب مندو ڈیرو ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ روز کراچی ایکسپریس کی 10 بوگیاں ٹریک سے اترنے کے بعد الٹ گئی تھیں جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے۔

روہڑی ٹرین حادثے نے ریلوے کے محکمہ جاتی نظام کی قلعی کھول دی ہے، حادثے کے بعد بھی جدید مشینری کہیں نظر نہ آئی، اپ ٹریک کی بحالی کا کام 17 سے زائد گھنٹے چلتا رہا، لیزر ٹیکنالوجی کے دور میں 2 مزدور آری لیے ٹوٹا ٹریک کاٹتے رہے، اور مینئول ٹرالی گھسیٹتے مزدور سیمنٹ کے پلرز ادھر اُدھر کرتے رہے۔

حادثے کے بعد سی ای اور ریلویز اور ایف جی آئی آر نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے، حکام کے بیانات میں واضح تضاد نظر آیا کہ یہ حادثہ تھا یا تخریب کاری، جائے حادثہ پر لوہے کے ٹریک کے ایک برابر کٹے ٹکڑے پائے گئے، جہاں ٹریک ثابت تھا وہاں سے پلرز کیوں غائب تھے۔

واضح رہے کہ رپورٹ آنے سے قبل ہی کمشنر سکھر نے ٹرین ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دے دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے