1 مارچ, 2021
d8add984db8cd985 d8b9d8a7d8afd984 d8b4db8cd8ae daa9d988 d986db81 daa9d8b3db8c d986db92 db81d8a7d8aadabe d984daafd8a7db8cd8a7 d8a7d988
کراچیپاکستانجرم و انصافخبریںسیاست

حلیم عادل شیخ کو نہ کسی نے ہاتھ لگایا اور نہ ہی کوئی تھپڑ یا پتھر مارا، جیل سپرنٹنڈنٹ کی تردید

سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹڈنٹ حسن سہتو نے اپوزیشن لیڈر کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا حلیم عادل شیخ کو کسی نے ہاتھ لگایانہ کوئی تھپڑ یاپتھر مارا۔

تفصیلات کے مطابق سینٹرل جیل میں اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ پرمبینہ تشدد کے الزام پر جیل سپرنٹڈنٹ حسن سہتو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ کو ہفتے کی شام 4 بجےسینٹرل جیل منتقل کیا گیا، ان کو محمد علی بی کلاس وارڈ منتقل کیا جا رہا تھا، حلیم عادل انتظار گاہ سے گزر رہے تھے،کچھ قیدیوں نے نعرے لگائے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ حلیم عادل شیخ کو 26 سکینڈ میں واپس سپرنٹنڈٹ آفس منتقل کیا گیا اور چند لمحوں بعد حلیم عادل شیخ کو سیکیورٹی وارڈ منتقل کر دیا گیا، ان کو سیکیورٹی وارڈبی کلاس کی تمام سہولیتں فراہم کی گئیں۔

حسن سہتو نے بتایا کہ حلیم عادل شیخ کو کسی نے ہاتھ لگایا نہ کوئی تھپڑ یا پتھر مارا، انھوں نے جیل سپرنٹنڈت کو تحریری درخواست دی کہ بلڈ پریشر اور انجائنا کا مریض رہا ہوں، این آئی سی وی ڈی میں میرا علاج ہوتا رہا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے درخواست میں کہا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹرز نے اینجیو گرافی کا کہا تھا، کراچی جیل ڈاکٹر نے بھی مجھے چیک کیا، طبعیت بگڑ رہی ہے فورٍا این آئی وی سی ڈی بھیجا جائے، جس پر جیل انتظامیہ نے حلیم عادل شیخ کو این آئی وی سی ڈی منتقل کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے