26 جنوری, 2021
d8acd8a7d9bed8a7d986db8c d8afd988d8a7 d8b3db92 daa9d988d8b1d988d986d8a7 daa9d8a7 d8b9d984d8a7d8acd88c d8a8d8b1d8b7d8a7d986d988db8c d8aa
برطانیہایشیاتعلیم و صحتخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

جاپانی دوا سے کرونا کا علاج، برطانوی تحقیق میں نیا دعویٰ

برطانیہ میں مقیم ایک تحقیقی ٹیم کے مطابق جاپان میں تیار کی گئی گٹھیا کی ایک دوا کووڈ 19 کے انتہائی علیل مریضوں کی جان بچانے کی شرح میں خاطر خواہ بہتری لاسکتی ہے۔

امپیریل کالج لندن کے محققین اور دیگر نے جوڑوں میں درد اور ورم کی بیماری گٹھیا کے علاج کے لیے ٹوسیلی زُماب کے نام سے بھی مشہور دوا اکٹیمرا کے انسانوں پر تجربات کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موازنے کے لیے دستیاب 400 افراد کے ایک کنٹرول گروپ میں شرحِ اموات 35.8 فیصد تھی جبکہ یہ دوا لینے والے 350 کے قریب افراد میں یہ شرح 7 پوائنٹس سے زائد کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔

مذکورہ گروپ نے کہا ہے کہ جوڑوں کے درد اور ورم کی بیماری گٹھیا کی ایک اور دوا کے بھی ملتے جلتے اثرات سامنے آئے ہیں۔

اکٹیمرا جاپان کی اوساکا یونیورسٹی اور چُوگائی فارماسیوٹیکل نے تیار کی ہے, توقع ہے کہ یہ دوا انسان کے مدافعتی نظام کو نسبتاً زیادہ ردعمل ظاہر کرنے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔

برطانوی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں داخل کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے مذکورہ ادویات کے استعمال کی اجازت دے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے