بدھ, اکتوبر 27
daa9db8cd8a7 daa9d8b1d988d986d8a7 d988d8a7d8a6d8b1d8b3 daa9d8a7 d985d8b1db8cd8b6 d8b5d8b1d981 d8a8d8a7d8aa daa9d8b1d986db92 d8b3db92
تعلیم و صحتملٹی میڈیاویڈیوز

کیا کرونا وائرس کا مریض صرف بات کرنے سے بھی وائرس پھیلا سکتا ہے؟ ویڈیو نے سوال کھڑے کر دیے

اب تک کرونا وائرس کو چھونے، چھینکنے یا کھانسنے سے پھیلنے والا وائرس سمجھا جاتا رہا تاہم حال ہی میں انکشاف ہوا کہ کووڈ 19 سے متاثرہ شخص صرف بات کرنے سے بھی اس وائرس کو پھیلا سکتا ہے۔

حال ہی میں جاپانی سائنسدانوں نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ باتوں کے دوران کسی شخص کے منہ سے خارج ہونے والی ہوا کس طرح دوسروں کو کرونا وائرس کا شکار بنا سکتی ہے۔

مذکورہ سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں کہا کہ ہیئر ڈریسرز، بیوٹیشنز اور میڈیکل پروفیشنلز اس ذریعے سے کرونا وائرس کو اپنے کلائنٹس اور مریضوں تک منتقل کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اس کے لیے اسموک اور لیزر لائٹ کے ذریعے منہ سے خارج ہونے والی سانس کو جانچا۔

انہوں نے بتایا کہ جب ایک مخصوص انداز میں کسی شخص پر جھکا جائے، جیسے کوئی ہیئر ڈریسر بال دھونے یا کوئی ڈینٹسٹ مریض کے دانتوں کے معائنے کے لیے اس پر جھکتا ہے تو بہت امکان ہے کہ صرف اس کے بات کرنے سے بھی اس کی سانس کے ذریعے مضر ذرات دوسرے شخص کے قریب جاسکتے ہیں۔

اس تجربے کے لیے دونوں افراد کا ماسک سمیت اور بغیر ماسک کے تجزیہ کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک نہ پہننے والے کی سانس کشش ثقل کی وجہ سے نیچے کی طرف جاتی ہے، ماسک پہننے کی صورت میں وہ اوپر ہی رہتی ہے اور قریب موجود شخص کے گرد ایک ہالہ سا قائم کر لیتی ہے، دونوں صورتوں میں سامنے والا شخص متاثر ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل یہ دیکھا گیا تھا کہ کووڈ 19 سے متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے کے دوران اس کے منہ سے نکلنے والے ذرات اور لعاب دہن کے قطرے دوسرے شخص تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں۔

اب بات کرنے کے دوران ہونے والی ذرات کی اس منتقلی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے