28 جنوری, 2021
d988d8a7d984d8afdb8cd986 daa9db8cd8b3db92 d9bed8aadb81 da86d984d8a7 d8b3daa9d8aadb92 db81db8cdaba daa9db81 d8a7d986 daa9d8a7 d8a8da86
تعلیم و صحتپاکستانخبریں

والدین کیسے پتہ چلا سکتے ہیں کہ ان کا بچہ نشے کا عادی ہو چکا ہے؟

ملک بھر میں آئس کے نشے کے بڑھتے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے حوالے سے نہایت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو باخبر سویرا میں ماہر نفسیات ڈاکٹر معیز نے گفتگو کی اور نشے کی ہلاکت خیزی کے بارے میں بتایا۔

ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ آئس کا نشہ آج کل بہت عام ہوگیا ہے اور کالجز اور جامعات کے باہر کھلے عام اسٹرابری کے نام سے بک رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کی صرف آئس کا نشہ ہی نہیں ہر قسم کا نشہ ہلاکت خیز ہے اور گھر کا صرف ایک شخص بھی اس میں مبتلا ہوجائے تو پورا خاندان اس سے متاثر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر معیز کا کہنا تھا کہ نوجوان پہلی بار آئس کے نشے کو تفریحاً استعمال کرتے ہیں، اس کے بعد ان کے دماغ کی کیمسٹری تبدیل ہوتی ہے اور انہیں لطف محسوس ہوتا ہے۔ اس لطف کی وجہ سے وہ دوسری اور تیسری بار آئس کا نشہ کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں اس کی لت پڑ جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج کل والدین کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے وہ بچوں پر نظر نہیں رکھ پاتے، یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلوم رکھا کریں کہ ان کے بچوں کی کس سے دوستی ہے اور اس کے دوستوں کے گھر والے کون ہیں۔

ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ نشے کے عادی بچے کی نشانیاں بہت واضح ہوتی ہیں، سب سے پہلے وہ ارد گرد کے ماحول اور لوگوں سے کٹ کر تنہائی پسند ہوجاتا ہے۔

یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اگر آپ کے والٹس اور جیبوں میں سے پیسے کم ہونے لگے ہیں تو آپ کو چوکنا ہونے کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں والدین فوری طور پر معلوم کریں کہ ان کا بچہ کس قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

ڈاکٹر معیز کا کہنا تھا کہ بعض افراد دماغی سرگرمی بڑھانے کے لیے بھی نشے کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہ فائدہ وقتی ہوتا ہے، اس کے نقصانات نہایت طویل مدتی اور خطرناک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات بالغ اور بچے بھی حالات سے فرار کے لیے نشے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں، ایسے لوگوں کی کاؤنسلنگ ہونی چاہیئے اور اس کے لیے ضروری ہے میڈیا آگاہی فراہم کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے