17 جنوری, 2021
daa9d988d8b1d988d986d8a7d985d8b1db8cd8b6d988daba daa9db92 d8add988d8a7d984db92 d8b3db92 d8a7db8cdaa9 d8a7d988d8b1 d8aed988d981d986d8a7
تعلیم و صحتخبریں

کرونا مریضوں کے حوالے سے ایک اور خوفناک انکشاف

سائنسی تحقیق کرنے والے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا مریضوں میں پایا جانے والا نمونیا دیگر اقسام سے بہت مختلف ہوتا ہے جو تیزی سے پھیپھڑوں کے بڑے حصے پر پھیل جاتا ہے۔

طبی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق عام مریضوں کے مقابلے میں کورونا مریضوں میں پایا جانے والا نمونیا دیگر اقسام سے مختلف ہوتا ہے، بیکٹریا یا وائرسز کے نتیجے میں ہونے والا نمونیا چند گھنٹوں میں پھیپھڑوں کے بڑے حصے میں پھیل جاتا ہے لیکن جلد ہی کنٹرول بھی ہو جاتا ہے۔

اس امریکی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا مریضوں میں پائے جانے والے نمونیے کو اینٹی بائیوٹیکس یا جسمانی مدافعتی نظام کی مدد سے بیماری کے چند دن بعد کنٹرول کر لیا جاتا ہے۔

مریضوں میں نمونیا کی یہ قسم چھوٹے چھوٹے متعدد حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق نمونیا پھیپھڑوں کے مدافعتی خلیات کو ہائی جیک کر کے ان کی مدد سے کئی ہفتوں تک پھیپھڑوں میں خود کو پھیلاتا ہے اور جیسے جیسے بیماری سست روی سے پھیپھڑوں میں پھیل رہی ہوتی ہے وہ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانا جاری رکھتا ہے۔

بعد ازاں کورونا مریضوں میں مسلسل بخار، لو بلڈ پریشر، گردوں، دماغ، دل اور دیگر اعضا میں نقصانات سامنے آتے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلی ریسرچ ہے جس میں سائنسدانوں نے کووڈ کے باعث نمونیا کے شکار مریضوں کے پھیپھڑوں کے مدافعتی خلیات کا منظم طریقے سے مشاہدہ کیا اور دیگر اقسام سے موازنہ بھی کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد اس صورت کے علاج کے لیے دوا کے تجربات کیے جائیں گے، ممکنہ دوا مدافعتی خلیات کے ورم پیدا کرنے والے ردعمل کو کم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کی مرمت کا عمل شروع ہوجاتا ہے، اس طرح نمونیا کے پھیپھڑوں پر منفی اثرات کی روک تھام کی جا سکے گی۔

دوسری جانب چین کے زیرانتظام شہر ہانگ کانگ میں ہونے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کرونا وائرس کے شکار مریض میں بیماری کے دورانیے، شدت اور مدافعتی ردعمل کے حوالے سے معدے میں موجود بیکٹریا ممکنہ طور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، مشاہدے کے دوران نتائج نے طبی محققین کو بھی حیرت زدہ کر دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق کرونا کی وجہ سے مریض کے معدے میں موجود بیکٹریا کی تعداد میں کمی واقع ہوتی اور یہ سلسلہ بیماری سے صحتیابی کے بعد بھی 30 دن تک جاری رہتا ہے، معدے میں پائے جانے والے بیکٹریا عمومی طور پر کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن کووڈ 19 مریضوں پر اس کے مختلف اثرات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے