1 مارچ, 2021
d8b3d988d8b4d984 d985db8cda88db8cd8a7 d9bed8b1 d981db8cdaa9 d8a2d8a6db8c da88db8cd8b2 d8a8d986d8a7d986db92 d988d8a7d984d988daba daa9db92
جرم و انصافپاکستانخبریںراولپنڈیسائنس و ٹیکنالوجی

سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز بنانے والوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بڑا قدم اٹھا لیا

سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز بنا نے والے ہو جائیں تیار کیونکہ فیک آئی ڈیز بنا کر شہریوں سے پیسے بٹورنے والوں کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ جعلی آئی ڈیز کے پیچھے چھپے نیٹ ورک کو گرفتار کرے گا-

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شہریوں کی جعلی آئی ڈیز بنا کر ان کے قریبی افراد سے پیسے بٹورنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے-

سال 2021ء کے پہلے 7 ہفتوں میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تین ہزار سے زائد تحریری شکایات موصول ہو چکی ہیں جس میں سوشل میڈیا فراڈ کے ذریعے شہریوں سے پیسے بٹورے جا رہے ہیں۔

میڈیا کو راولپنڈی کے رہائشی اسد احمد نے بتایا کہ کسی نامعلوم ملزم نے فیس بک پر اس کے نام سے جعلی آئی ڈی بنا رکھی ہے جبکہ اس کی اصل آئی ڈی سے فوٹو چوری کر کے جعلی آئی ڈی پر لگائی گئی ہے-

جعلی آئی ڈی کے پیچھے چھپے افراد اس کے قریبی دوستوں کو پہلے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے ہیں اور بعد میں کسی بھی مشکل کا ذکر کرنے کے بعد فوری پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسد احمد کا کہنا تھا کہ اس نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تحریری طور پر درخواست کر دی ہے جس میں ایف آئی اے حکام نے درخواست وصول کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ فیک آئی ڈی چلانے والوں کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔

تاہم اس حوالے سے ایف آئی اے ذرائع کا کہنا تھاکہ سائبر کرائم ونگ ایسی تمام جعلی آئی ڈیز کا ڈیٹا مکمل کر چکا ہے آئی ٹی ایکسپرٹس کی بھی مدد لی جائے گی جبکہ مختلف جدید وسائل استعمال کرکے اس جرم کے پیچھے موجود افراد کی لوکیشن حاصل کی جائے گی تاکہ متعلقہ علاقوں میں چھاپے مار کر جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جا سکے۔

ایف آئی اے ذرائع کا یہ بھی کہنا تھاکہ اس حوالے سے فیس بک اور سماجی رابطوں کی دوسری ویب سائٹس کو سرکاری سطح پر تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ مین سرور سے بھی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

اس حوالے سے پاکستان ٹویٹر پینل پر سائبر کرائم اوئیرنیس کے نام سے ٹرینڈ ٹویٹر ٹرینڈ فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جس میں بے شمار لوگ حصہ لیتے ہوئے اپنی شکایات درج کروا رہے ہیں اور اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں-

اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے آمنہ جبین نامی خاتون کا کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے میں نے اسکیم کال کے ذریعہ ایزی پیسہ سے اپنی رقم کھوئی ہے۔ آج کل بہت سارے لوگ اس فراڈ کے بارے میں شکایت کر رہے ہیں لہٰذا پی ٹی اے اب لوگوں میں بیداری پیدا کر رہا ہے کہ کبھی بھی اپنی ذاتی یا مالی معلومات جیسے کہ اے ٹی ایم پن کوڈ ، سی این آئی سی وغیرہ شئیر نہ کریں۔

ثنا نامی خاتون نے لکھا کہ کسی کی تصویر سوشل میڈی پر اپلوڈ کر کے اسے بلیک میل کرنا بھی سائبر کرائم ہے-

طیب مامون نامی صارف نے کہا کہ کبھی بھی اپنی ذاتی معلومات آئی ڈی کارڈ نمبر وغیرہ کسی سے شئیر نہ کریں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے