28 جنوری, 2021
Entertainment Actor Music Ali Zafar
جرم و انصاففن و ثقافتمیوزک

علی ظفر پر ہراسانی کا ایک اور الزام، خاتون کی جانب سے 50 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ

پاکستان میوزک انڈسٹری کی نامور گلوکارہ میشا شفیع کے بعد ایک اور خاتون نے پاکستان کے عالمی شہرت گلوکار علی ظفر کے خلاف 50 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔

علی ظفر کے خلاف دعویٰ خاتون لینا غنی کی جانب سے دائر کیا گیا جس میں درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ علی ظفر نے پہلی مرتبہ 2014ء لندن میں پاکستانی فیشن شو کے دوران ہراساں کیا۔

انہوں نے کہا کہ علی ظفر نے جون 2014ء میں دو مرتبہ پھر اس طرح نازیبا گفتگو کی-

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اس حوالے سے اپنی بہن اور دوستوں کو بھی آگاہ کیا، علی ظفر کا 20 دسمبر 2020ء کا ری ٹویٹ اور 22 دسمبر کا ٹویٹ جھوٹ پر مبنی ہے لہٰذا علی ظفر کے ان ٹوئٹس کو بد نیتی پر مبنی قرار دیا جائے۔

دونوں ٹویٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ علی ظفر کے خلاف مہم میں لینا غنی کا ہاتھ ہے، دونوں ٹویٹس لینا غنی کی ساکھ نقصان پہنچانے کیلئے کیے گئے تھے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ علی ظفر کو سوشل میڈیا سمیت آن لائن، ٹی وی چینلز پر مواد اور خبریں چھپوانے سے روکا جائے کیونکہ ایسے مواد اور خبروں سے انہیں نیچے دکھانے کی کوشش کی جائے گی۔

درخواست گزار نے میشا شفیع سے اظہار لاتعلقی بھی کیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے سیشن جج لاہور کے ذریعے علی ظفر کو 25 جنوری کیلئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ واضح رہے کہ 19 مارچ 2018ء کو گلوکارہ میشا شفیع نے بھی علی ظفر پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گلوکارہ میشا شفیع نے بھی 2019ء میں علی ظفر کو 2 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے