0
0
0
ڈیم میں گرنے والوں میں نوبیاہتا جوڑا بھی شامل تھا جن میں سے شوہر اور اس کی بہن خوش قسمتی سے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے مگر بدقسمتی سے دیگر افراد پانی میں ڈوب گئے۔

شعیب سعید آسی

بھارتی ریاست تامل نڈو میں ڈیم کے پاس سیلفی لیتے ہوئے نوبیاہتی دُلہن سمیت ایک ہی خاندان کے 4 افراد  ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو میں سیرو تفریح  کے لیے آنے والے ایک ہی خاندان کے 6 افراد  ایک ساتھ ہاتھ پکڑے پامبار ڈیم کے قریب پانی میں کھڑے تھے اور سیلفی لینے کی کوشش میں تھے کہ اچانک ان میں سے ایک شخص کا پاؤں پھسل گیا جس کے باعث توازن برقرار نہ رکھنے سے باقی لوگ بھی پھسل کر ڈیم میں جاگرے۔

ڈیم میں گرنے والوں میں نوبیاہتا جوڑا بھی شامل تھا جن میں سے شوہر اور اس کی بہن خوش قسمتی سے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے مگر بدقسمتی سے دیگر افراد پانی میں ڈوب گئے۔

اعدادو شمار کے مطابق پوری دنیا میں سیلفی لیتے وقت جان سے چلے جانے کے سب سے زیادہ واقعات بھارت میں ہوئے ہیں جبکہ امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطالعے کے مطابق 2011 سے 2017 کے درمیان ہندوستان میں سیلفی لینے کی وجہ سے 259 ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

بھارتی میڈیا کہ مطابق پانی میں ایک ساتھ گرنے والوں میں 3 بہن بھائی تھے جن کی عمر 14، 18 اور 19 برس تھی، جبکہ ان کے ساتھ نو بیاتے جوڑے میں سے خاتون اور لڑکے کی بہن بھی شامل تھی۔ لڑکے نے خوش قسمتی سے اپنی بہن کی جان بچا لی مگر باقی کے4 پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ تلاش کے بعد چاروں لاشوں کو نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

بھارت میں آئے روز نئے نئے طریقوں سے سیلفی لینے کا شوق بہت عام ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے، ماہرین اس حوالے سے لوگوں کو خبردار بھی کر رہے۔ جبکہ ماہرین کے مطابق لوگوں میں اس شوق کی وجہ اپنے ارد گرد کے لوگوں اور دوستوں کو نئے نئے طریقں سے لی گئیں سیلفیز کے ذریعے متاثر کرنا ہے۔

اس سے قبل مئی میں ریاست ہریانہ میں ریلوے ٹریک پر سیلفیاں لینے والے 3 نوجوان اچانک ٹرین آنے کی ذد میں ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ 2017  میں بھارتی ریاست کارناتاکا کی جانب سے ایک آگاہی مہم بھی چلائی گئی تھی جس میں نوجوانوں اور طالبعلموں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ سیلفی لینے کا شوق جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس