0
0
0
پولیس کے مطابق ملزم سہیل شہزاد کے خلاف 5 مقدمات تھانہ الہ آباد اور ایک تھانہ صدر چونیاں میں درج ہے۔

شعیب سعید آسی

 تحصیل چونیاں میں زیادتی کے بعد چار بچوں کو قتل کرنے والے ملزم سہیل شہزاد کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

تفتیشی افسران کے مطابق سانحہ چونیاں میں ملوث ملزم سہیل شہزاد کے خلاف مزید 6 مقدمات کاریکارڈ سامنے آیا ہے جن میں 3 مقدمات چوری، 2 ناجائز اسلحے کے اور ایک ڈکیتی کے ارادے کا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم سہیل شہزاد کے خلاف 5 مقدمات تھانہ الہ آباد اور ایک تھانہ صدر چونیاں میں درج ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل شہزاد کے کرمنل ریکارڈ پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ قصور کی تحصیل چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران 4 بچوں کو اغواء کیا گیا جن میں فیضان، علی حسنین، سلمان اور 12 سالہ عمران شامل ہیں، ان کی لاشیں جھاڑیوں سے ملی تھیں جب کہ بچوں سے زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔

اس واقعے کے بعد چونیاں شہر میں عوام کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور تھانے پر حملہ کیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں کے اغواء، زیادتی اور پھر قتل کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) تشکیل دی تھی۔

بعدازاں پولیس نے ملزم سہیل شہزاد کی گرفتاری کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور ملزم کا سراغ لگانے کےلیے ہر طریقہ استعمال کر کے انتہائی مہارت سے اسے گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف 8 سال پہلے بھی چونیاں میں ہی بچے سے زیادتی کا مقدمہ درج ہوا تھا جس پر اسے سزا بھی ہوئی تھی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس