0
0
0
صوبائی کوچز نے ہی سب کام کرنا ہے تو پھر چیف سلیکٹر کی کیا ضرورت؟

شعیب سعید آسی

‏پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق پر نا صرف الزامات کی بوچھاڑ کر دی بلکہ ان کی تقرری کو بھی میرٹ کی خلاف ورزی قرار دیدیا۔

سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے سابق کپتان کا کہنا ہے کہا جا رہا ہے کہ سری لنکا کے سرکردہ کرکٹرز پاکستان نہیں آئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، ان کی ٹیم کا آنا ہی اچھی بات ہے، اگر سرکردہ کرکٹرز ہوتے بھی تو پاکستان ٹیم ان سے بہت بہتر ہے کیونکہ سری لنکا کی ٹیم میں اس وقت نہ مرلی دھرن شامل ہیں، نہ ہی سنگاکارا اور جے وردھنے۔

‏محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر ہر برس تبدیل ہوتا رہا ہے، اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں اور ٹیموں کی تعداد کو کم کر دیا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ 8 سے 10 ٹیمیں پہلے درجے میں ہوتیں اور دوسرے درجے میں بھی اتنی ہی ٹیمیں ہوتیں اور دونوں کو فرسٹ کلاس اسٹیٹس حاصل ہوتا، اب بہت کم کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کرکٹر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر انگلینڈ میں لیگ کھیلنے کے اہل ہو جاتے تھے لیکن اب ان کی تعداد کم ہو جائے گی جس سے غریب گھرانے کے کھلاڑیوں کو نقصان ہو گا۔

مصباح الحق کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا عہدہ دیئے جانے پر محمد یوسف کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ تو قومی ٹیم کے ساتھ ہو گا وہ کیسے فرسٹ کلاس میچز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو اپنی نظر سے دیکھے گا، وہ تو فیصلہ اسکور کارڈز پر کرے گا یا پھر جو صوبائی کوچز سلیکٹرز کی حیثیت سے چیف سلیکٹر کو بتائیں گے، اگر صوبائی کوچز نے ہی سب کام کرنا ہے تو پھر چیف سلیکٹر کی کیا ضرورت ہے۔

‏سابق کپتان سمجھتے ہیں کہ مصباح الحق کی تقرری میرٹ پر نہیں ہوئی، اگر میرٹ پر تقرری بنتی ہے تو پھر وقار یونس کی بنتی ہے، انہیں ہی ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہونا چاہیے تھا لیکن میں حیران اور پریشان ہوں کہ انہوں نے کیسے بولنگ کوچ کا عہدہ قبول کر لیا۔

محمد یوسف نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وقار یونس غیر معمولی فاسٹ بولر تھے لیکن وقار یونس کو جب عہدہ ملتا ہے کہ تو ان کا رویہ بدل جاتا ہے، اس کی نشاندہی عبدالرزاق، شعیب اختر اور شاہد آفریدی بھی کر چکے ہیں، دیگر کھلاڑی بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ ابھی نوجوان ہیں، وقار کو اپنی اس عادت کو بدلنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ مصباح الحق نے اپنے دور میں اظہر علی کو ون ڈے ٹیم میں نہیں آنے دیا، جب ون ڈے کرکٹ چھوڑی تو اظہر علی کو کپتان بنوا دیا، اس سے ان کی کرکٹ سے دیانت داری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی بری نہیں تو کوچز کیوں تبدیل ہوئے؟

ان کا کہنا تھا ایک طرف کرکٹ بورڈ کہہ رہا تھا کہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی اتنی بھی بری نہیں رہی لیکن پھر کیا ہوتا ہے کہ کوچز تبدیل کر دیئے جاتے ہیں اور کپتان وہی رہتا ہے۔

قومی ٹیم کی سابق رنز مشین نے کہا کہ میں کپتان کا مخالف نہیں ہوں، کپتان کی ورلڈ کپ میں فٹنس اچھی نہیں تھی لیکن اب سرفراز احمد نے فٹنس کو بہتر بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصباح الحق نے کرکٹ کمیٹی میں سب سے زیادہ مخالفت کوچز کی کی کیونکہ انہوں نے خود کوچ بننا تھا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ تقرری میرٹ پر نہیں ہوئی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس