0
0
0
سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے سب سے بڑے رہنما محمد بدیع بھی شامل ہیں

شعیب سعید آسی

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے سرکردہ رہنما محمد بدیع سمیت 11 رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنادی۔اخوان المسلمون کے رہنماؤں پر فلسطین کی تنظیم حماس کیلئے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے سب سے بڑے رہنما محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر بھی شامل ہیں۔ان دونوں رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جس کی مدت مصر میں 25 سال ہے۔ رپورٹس کے مطابق اخوان المسلمون کے دیگر 5 اراکین کو بھی7 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 6 افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔

تمام افراد پر غیر ملکی تنظیموں کے تعاون سے جرائم کرنے کا الزام تھا۔خیال رہے کہ 17 جون 2019 کو مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں بے ہوشی کے بعد اسپتال منتقل ہوتے ہوئے انتقال کرگئے تھے۔

مرسی پر قطر کیلئے جاسوسی کا الزام تھا جس کی سماعت کیلئے وہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت برخاست ہونے کے بعد 67 سالہ محمد مرسی بے ہوش ہوگئے، اور اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔

محمد مرسی 30جون 2012 سے 3 جولائی 2013 تک مصر کے صدر رہے۔محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے لیکن صرف ایک سال کے اندر ہی 2013 میں مصری فوج نے ان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔

اس کے بعد 5 ستمبر 2019 کو محمد مرسی مرحوم کے سب سے چھوٹے بیٹے عبداللہ مرسی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔

سابق صدر محمد مرسی کے بیٹے عبداللہ مرسی کی عمر 25 سال کے لگ بھگ تھی، انہیں دل کا دورہ پڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس