0
0
0
مستعفی وزیر وزیراعظم بورس جانسن کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت انہوں نے بریگزیٹ کے معاملے پر حکومتی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر 21 ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سے نکال دیا ہے

شعیب سعید آسی

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی مشکلات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں اور اب اہم برطانوی وزیر ایمبر رڈ نے وزارت اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر کے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

وزیر برائے ورک اینڈ پینشنز ایمبر رڈ نے بریگزٹ سے متعلق بحران کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہ کرنے پر احتجاجاً استعفا دیا۔ایمبر رڈ کا کہنا ہے کہ وہ اچھے، وفادار اور اعتدال پسند ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلے کا ساتھ نہیں دے سکتیں۔

مستعفی وزیر وزیراعظم بورس جانسن کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت انہوں نے بریگزیٹ کے معاملے پر حکومتی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر 21 ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔

ایمبر رڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اب اس بات کا بھی یقین نہیں کہ ڈیل کے ساتھ یورپی یونین چھوڑنا حکومت کا اصل مقصد ہے، حکومت نو ڈیل بریگزٹ کے لیے بہت سرگرمی سے کام کر رہی ہے لیکن انہیں اس طرح کی سرگرمی یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں نظر نہیں آئی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل بورس جانسن کے بھائی اور برطانوی وزیر جو جانسن نے بھی وزارت اور پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس