0
0
0
گزشتہ روز سے سینٹری فیوجز بنانے کے عمل کو فعال کردیا گیا ہے: ترجمان ایرانی نیوکلیئر ایجنسی

شعیب سعید آسی

ایران نے جوہری معاہدے کی شقوں سے انحراف پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ترجمان ایرانی نیوکلیئر ایجنسی بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایرانی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانی شروع کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سے سینٹری فیوجز بنانے کے عمل کو فعال کردیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں 20 چینز میں گیس انجکشن کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے بعد دوسرے مرحلے میں 30 چینز میں بھی گیس انجکشن داخل کیا جائے گا۔

بہروز کمالوندی کے مطابق ان اقدامات سے ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ ہوگا، اب یورنیم افزدوگی کیلئے جدید تیز تر سینٹری فیوجز کا استعمال کریں گے، ایسے 40 جدید سینٹری فیوجز اس وقت قابل استعمال ہیں، جدید سینٹری فیوجز کے استعمال سے ایران 20 فیصد سے زائد یورینیم افزودہ کرسکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپی ساتھیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جوہری معاہدے کو بچانے کیلئے اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں رہ گیا، جوہری معاہدے کے تحت ایران صرف 3 فیصد سے زائد تک یورینیم افزودہ کرنے کا پابند تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایرانی صدر حسن روحانی نے جوہری معاہدے کے تحت جوہری تحقیق پر عائد پابندی سے دستبردار ہوتے ہوئے یورینیم افزودگی کیلئے سینٹری فیوجز تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

ایران کیوں دوبارہ جوہری تحقیق شروع کررہا ہے؟

مئی 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’ایران ریاستی دہشت گردی کی سر پرستی کرتا ہے، حقیقت میں اس ڈیل کے تحت ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی، ایران، شام اور یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا، ایران نیوکلیئر ڈیل یک طرفہ تھی، ڈیل کے بعد ایران نے خراب معاشی صورتحال کے باوجود اپنے دفاعی بجٹ میں 40 فیصد اضافہ کیا‘۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا، ایران ایک دہشت گرد ملک ہے، وہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران سے جوہری معاہدہ نہیں ہوناچاہیے تھا، معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور جیسے ہی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگا دیگر ممالک بھی کوششیں تیز کر دیں گے‘۔

ایران نے ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود کہا تھا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے گا کیوں کہ معاہدے میں امریکا کے علاوہ دیگر پانچ طاقتیں ایرانی اقدامات سے مطمئن ہیں۔

لیکن اپریل 2019 میں امریکا نے ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کو تنبیہہ کی کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدیں ورنہ امریکا ان ممالک پر بھی پابندیاں عائد کردے گا۔

اس کے بعد مئی 2019 میں ایران نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ امریکا نے اس پر معاشی پابندیاں عائد کردی ہیں لہٰذا وہ جوہری معاہدے کے دو اہم حصوں سے دستبردار ہورہا ہے۔

ایرانی صدر نے اس وقت اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ عالمی معاہدے کے دو حصے معطل کر رہے ہیں جنہیں مشترکہ جامع ایکشن پلان (Joint Comprehensive Plan of Action) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ ملک میں یورینیم کا بھاری اسٹاک رکھیں گے اور اسے یورپ کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔

حسن روحانی نے یورپی قوتوں، چین اور روس کو تیل اور پیسے سے متعلق وعدوں کی پاسداری کے لیے 60 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ہونے کی صورت میں ہی ایران فروخت بحال کرے گا۔

جوہری معاہدے میں کیا طے ہوا تھا؟

جولائی 2015 میں یورپی یونین سمیت 6 عالمی طاقتوں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکش‘ کے تحت ایران نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ جوہری ری ایکٹر میں بطور ایندھن استعمال ہونے اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے افزودہ شدہ یورینیم کے ذخائر کو 15 سال کے لیے محدود کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز کی تعداد کو 10 سال کے عرصے میں بتدریج کم کرے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ وہ بھاری پانی کی تنصیب کو بھی تبدیل کرے گا تاکہ بم میں استعمال ہونے والا مواد پلوٹونیم تیار نہ کیا جاسکے۔

ان تمام شرائط کو قبول کرنے کے بدلے اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔

ایران ہمیشہ سے اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری معاہدے پر عمل پیرا ہے جس کی تصدیق عالمی جوہری توانائی ایجنسی بھی کرتی ہے۔

ٹرمپ کو جوہری معاہدے سے کیا مسئلہ تھا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو تباہ کن اور پاگل پن قرار دینا شروع کردیا تھا اور وہ دو بار اس بات کی توثیق کرنے سے انکار کرچکے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل کررہا ہے۔

رواں برس جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے میں موجود نقائص ختم نہ کیے گئے تو امریکا 12 مئی سے پہلے جوہری معاہدے سے الگ ہوجائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ جوہری معاہدے سے ایران کے جوہری معاہدے کو محض ایک مخصوص مدت کے لیے محدود کیا گیا اور یہ معاہدہ ایران کو بیلسٹک میزائلز کی تیاری سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔

ٹرمپ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران پر پابندیاں نرم ہوئیں اور اسے 100 ارب ڈالر کی رقم مل گئی جو اس نے مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں، دہشت اور ظلم و بربریت کے فروغ میں استعمال کی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس