0
0
0
جو جانسن نے مزید لکھا کہ کئی ہفتوں سے میں خاندانی وفاداریوں اور قومی مفادات کے درمیان پھنسا ہوا تھا جو ایک ناقابل حل مسئلہ ہے، دوسروں کے لیے وقت ہے کہ وہ بطور رکن پارلیمنٹ اور وزیر میری جگہ ذمہ داریاں نبھائیں۔

شعیب سعید آسی

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی اور کنزرویٹو پارٹی کے رکن نے پارلیمنٹ اور وزارت سے استعفیٰ دیدیا۔

بورس جانسن کے بھائی جو جانسن نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ 9 سال تک آرپنگٹن کی نمائندگی کرنا اور تین وزرائے اعظم کے ساتھ کام کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

جو جانسن نے مزید لکھا کہ کئی ہفتوں سے میں خاندانی وفاداریوں اور قومی مفادات کے درمیان پھنسا ہوا تھا جو ایک ناقابل حل مسئلہ ہے، دوسروں کے لیے وقت ہے کہ وہ بطور رکن پارلیمنٹ اور وزیر میری جگہ ذمہ داریاں نبھائیں۔

دوسری جانب برطانوی اخبار کا دعویٰ ہے کہ جو جانسن نے وزیراعظم بورس جانسن کی قیادت پر احتجاجاً استعفیٰ دیا کیونکہ وہ بریگزٹ کے معاملے پر ایک اور استصواب کے حق میں تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس بورس جانسن کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد جو جانسن کو وزیر برائے یونیورسٹیز بنایا گیا تھا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس