0
0
0
گرفتار ملزمان نے ڈکیت قومی موومنٹ کے نام سے واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے جس میں ان کے علاوہ لگ بھگ 10 ملزمان ممبران ہیں: پولیس

شعیب سعید آسی

کراچی میں واٹس ایپ پر’ڈکیت قومی موومنٹ‘ کے نام سے گروپ بناکر اسٹریٹ کرمنلز کو منظم کرنے والے گروہ نے اپنے گروپ کے ارکان کی مدد کیلئے سرکاری اداروں کی طرز پر ویلفئیر کا نظام بنا رکھا ہے۔

ایس ایچ او عزیز آباد حاجی ثناء اللہ نے بتایا کہ ملزمان ارسلان عرف چکنا اور فرحان عرف کوڈو پولیس کو ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھے جن کے خلاف تھانہ عزیزآباد میں ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے، جس میں اس گروپ کا ایک ساتھی کامران عرف ناکو کچھ عرصہ قبل گرفتار ہوا تھا اور باقی ملزمان فرار ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق 3 روز قبل ان دونوں ملزمان کی گرفتاری کی گئی تو ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا جنہیں بعدازاں عدالت نے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

حاجی ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے وارداتوں کی لگ بھگ سنچری مکمل کرلی ہے، ملزمان نے ڈکیت قومی موومنٹ کے نام سے واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے  جس میں ان کے علاوہ لگ بھگ 10 ملزمان ممبران ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ارسلان اس گروپ کا ایڈمن ہے، یہ ہر واردات کی منصوبہ بندی واٹس ایپ گروپ میں کرتے ہیں اور ایک واردات میں چار سے پانچ ڈکیت شامل ہوتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ان کے گروہ نے مختلف علاقوں میں بینکوں سے رقوم لے کر نکلنے والے شہریوں سے لوٹ مار کی، ملزمان نے عزیزآباد، ناظم آباد، نیو کراچی، میٹھادر، کھارادر، گارڈن اور بریگیڈ تھانوں کے علاقوں میں متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا۔

ڈی کیو ایم گروہ کے ملزمان متعدد بار گرفتار ہوئے اور جیل بھی جا چکے ہیں۔

ملزمان نے بتایا کہ وہ ایک دوسرے کو بذریعہ واٹس ایپ وارداتوں کیلئے بلواتے تھے تاکہ گرفتاری کے بعد کال ڈیٹا ریکارڈ کے ذریعے ان کا ریکارڈ پکڑا نہ جاسکے اور گرفتاری سے بچا جاسکے۔ 

اس کے علاوہ گروہ کے گرفتار ساتھیوں کی قانونی اور زخمی ہونے والوں کی طبی امداد اور علاج معالجہ بھی گروپ کے ذمے ہے۔

ملزمان کے مطابق واردات کرنے کے بعد جیل میں گروہ کے ممبران کو کیس لڑنے کیلئے ان کے حصے کی رقم ان کے گھر اور جیل میں پہنچاتے ہیں، گرفتار ملزمان کامران کے وکیل کو فیس اور اہل خانہ کی مالی مدد بھی کررہے ہیں۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گروپ کا ایک ملزم شہباز گزشتہ دنوں ناظم آباد پولیس مقابلے میں زخمی ہوا، گرفتاری کے بعد اس کے علاج کا خرچہ بھی ملزمان ہی اٹھاتے رہے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس