0
0
0
آٹو انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں 50 فیصد کمی ہو چکی ہے.

شعیب سعید آسی

روپے کی قدر میں کمی کے اثرات، انٹرسٹ ریٹ بڑھنے سے آٹو فناسنگ کی شرح گھٹ جانے، نیز کسٹمز ڈیوٹی بڑھ جانے سے ملک کی آٹو انڈسٹری کو شدید بحران کا سامنا، گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی سے مقامی کار صنعت کار شدید مشکلات کا شکار، آٹو سیکٹر میں آنے والی نئی سرمایہ کاری بھی منجمد، ملک میں آنے والے کئی بڑے برانڈز نے اپنے منصوبے التواء میں ڈال دیئے۔

آٹو انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں 50 فیصد کمی ہو چکی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

آٹو سیکٹر سے وابستہ مینوفیکچرز نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ایسے کچھ اقدامات بھی کئے ہیں جو آٹو پالیسی 2016~21 (ADP) سے متصادم ہیں اور ان سے مقامی طور پر لوکلائزیشن شدید متاثر ہوئی ہے، اگر یہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو آٹو پالیسی کے تحت 550,000گاڑیوں کی پیداوار کی کوششیں ضائع جائیں گی۔

دوسری طرف گزشتہ چند برسوں میں انڈسٹری کی شرح نمو اور گاڑیوں کی فروخت کم ہونے سے سالانہ تقریباً 225 ارب روپے حکومتی آمدنی کا نقصان اور 18 لاکھ روزگار کے مواقع ختم ہونے جیسے اثرات واقع ہوں گے۔

انڈسٹری کو طویل المدت مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ طویل المدت سرمایہ کاری منصوبوں کو آگے بڑھایا جاسکے اور ایسا ماحول فراہم ہو جس سے انڈسٹری کے فوائد ملک کو حاصل ہوں۔

پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن(پاما) کے اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر ہنڈا کی فروخت میں 66 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جولائی 2018ء میں گاڑیوں کی فروخت 4,981 یونٹس تھیں جو جولائی 2019ء میں کم ہو کر 1,694 یونٹس تک محدود رہ گئیں۔ 

اسی طرح ٹیوٹا کی فروخت میں 56 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جولائی 2018ء میں 5,468کاریں فروخت ہوئیں لیکن جولائی 2019ء میں صرف 1,694 گاڑیاں فروخت ہو سکیں۔ سوزوکی گاڑیوں کی فروخت میں 23فیصد کمی ہوئی۔

اس صورت کی وجہ سے کار انڈسٹری کو اپنے آئندہ کے منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینا پڑے گا، اسی طرح مارکیٹ نمو کے حوالے سے نئی کمپنیوں کے تخمینے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہر قسم کے خام مال پر پیشگی کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ اور 2.5 فیصد سے 7.5 فیصد ایف ای ڈی کا بجٹ میں اعلان کے بعد نفاذ انڈسٹری کے لیے شدید نقصان کا باعث رہا۔

اسی طرح روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ بھی انڈسٹری کے لیے تباہ کن رہا اور انڈسٹری کے آئندہ کے منصوبے متاثر ہوئے۔

ذرائع کے مطابق رواں برس مقامی آٹو انڈسٹری نے 140 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ 1.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عمل بھی نئی کمپنیوں کی طرف سے ممکن ہوگا، اب سرمایہ کاری کا عمل ٹھہراؤ کا شکار ہو گیا ہے اور انڈسٹری نے اپنی پیداوار میں بھی کمی کی ہے جس سے مقامی پرزہ جات کی خریداری میں بھی کمی واقع ہو گی جس کے نتائج بے روزگاری کی صورت میں نکل سکتے ہیں کیونکہ پرزہ جات تیار کرنے والے چھوٹے ادارے کام نہ ہونے کی صورت میں اضافی لیبر کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہنڈا نے اپنے پلانٹ کو 12 روز تک بند رکھا اور انڈس موٹر کمپنی نے پیداواری کام ہفتے میں 5 دنوں تک محدود کردیا ہے۔ یہ صورت حال نئی کمپنیوں کے لیے انتہائی مایوس کُن ہے۔

انڈسٹری کی یہ خراب صورت حال حکومت کے مفاد میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے 3 ارب روپے کے فی ماہ ٹیکس وصولی میں کمی واقع ہوگی کیونکہ ایک کار کی فروخت سے حکومت کو اس کی قیمت کا 33 فیصد سے 38 فیصد تک ٹیکس کی صورت میں ملتا ہے۔400 مقامی وینڈرز بھی متاثر ہوں گے کیونکہ 50 فیصد سے 60 فیصد تک گاڑیوں کی قیمت میں مقامی طور پر تیار کئے جانے والے پرزہ جات، لوکلائزیشن کی لاگت ہوتی ہے۔ انڈسٹری سے روزگار حاصل کرنے والے 3لاکھ بلاواسطہ اور 25 لاکھ بل واسطہ افراد بھی متاثر ہوں گے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس