قندیل بلوچ کو جولائی 2016 میں قتل کیا گیا تھا۔

شعیب سعید آسی

ماڈل قندیل بلوچ کے والدین نے بیٹی کے قتل میں ملوث بیٹوں کو معاف کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔

قندیل بلوچ کو ان کے بھائی محمد وسیم نے 15 جولائی 2016 کو ملتان میں قتل کر دیا تھا۔

قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم بلوچ نے اس وقت قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ اپنے بیٹے محمد وسیم اوراس کے ساتھیوں حق نواز، محمد ظفر اور ان کے ڈرائیور عبدالباسط کے خلاف درج کروایا تھا۔

اب قندیل بلوچ قتل کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے اور قندیل بلوچ کے والد کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ بیٹی کے قتل میں نامزد بیٹوں کو معاف کر دیا، عدالت بھی انہیں بری کر دے۔

ماڈل کے والدین کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بیٹی کے قتل میں نامزد بیٹوں وسیم اور اسلم کو اللہ کے واسطے معاف کر دیا۔

والدین کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ قندیل کے قتل میں غیرت کے نام پر بنائی گئی کہانی حقائق کے خلاف ہے۔

ماڈل کورٹ کے جج نے صلح نامہ کے بیان پر پراسیکیوشن اور وکلاء کو طلب کر لیا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس