0
0
0
یہ رائےعامہ کی جنگ ہے، ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے، بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے، عمران خان کی سینیئر صحافیوں سے گفتگو

شعیب سعید آسی

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم بھارت نے جنگ مسلط کی تومنہ توڑ جواب دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ رائےعامہ کی جنگ ہے، ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے، بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نہتے کشمیریوں پر بڑھتے بھارتی مظالم سے اقوام عالم کو آگاہ کریں گے، بھارت مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ مودی سرکار کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ بدلنا چاہتا ہے، مودی سرکار ہٹلر جیسی سوچ رکھتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اوراخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، ہم جنگ نہیں چاہتے، بھارت نے جنگ مسلط کی تو منہ توڑ جواب دیں گے، یہ رائےعامہ کی جنگ ہے، ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے۔

عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے، میں نے نریندرمودی سے ہمیشہ امن کی بات کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ پوری دنیا منتظر ہے کرفیو ہٹے تو دیکھے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں سے کیا ہورہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کیا بی جے پی حکومت کا خیال ہے کہ فوجی قوت سے وہ تحریک آزادی روک سکتی ہے؟ مقبوضہ کشمیر میں فوجی قوت کے استعمال سے تحریک آزادی زور پکڑے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ بات صاف ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کا نظارہ کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بار بی جے پی سرکار کے لبادے میں فسطائیت کا ایک اور مظاہرہ دیکھیں گے یا پھر عالمی برادری میں ایسا ہونے سے روکنے کی اخلاقی جرات ہوگی؟

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے اب یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

پاکستان کا رد عمل

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی اور اقوام متحدہ، سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر یہ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔


پاکستان نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے سمجھوتہ ایکسپریس ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا۔

کشمیر کی صورتحال

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے 8 اگست کو کشمیر میں احتجاج کرنے والے تقریباً 500 کشمیریوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ حریت قیادت سمیت بھارت کے حامی رہنما محموبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی نظر بند ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس