0
0
0
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کرکے لاک ڈاؤن کررکھا ہے اور وادی میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند ہے۔

شعیب سعید آسی

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی میں اتوار سے موبائل فونز اور انٹرنیٹ سروسز سمیت لینڈ لائنز بھی مکمل طور پر بند ہیں جب کہ پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض بھارتی انتظامیہ نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کیے جانے کے خلاف مظاہروں کے ڈر سے سیکیورٹی انتہائی سخت کررکھی ہے اور حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے میڈیا نمائندوں کو بھی علاقے کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا ہے، میڈیا نمائندگان وادی کے مختلف علاقوں کی صورتحال جاننے سے قاصر ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہےکہ صورتحال کے پیش نظر مختلف علاقوں میں پھنس جانے والے شہری کمیونیکشن سسٹم بند ہونے کی وجہ سے اپنے اہلخانہ سے رابطے بھی نہیں کرسکتے۔

مقبوضہ وادی میں لینڈ لائنز، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے بھارتی قابض فوج کو رابطوں کے لیے سیٹلائٹ فون فراہم کیے گئے ہیں۔

بھارت کی جانب سے وادی میں ہزاروں اضافی فوجی بھی تعینات کردیے گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی اخبار کا کہنا ہےکہ وادی میں کمیونیکیشن سسٹم کی بحالی کے فوری طور پر کوئی امکانات نہیں تاہم اس صورتحال میں لوگوں کو وادی میں داخلے کی اجازت دی جارہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آج بھی تعلیمی ادارے بند ہیں اور کرفیو کے باعث اخبارات کی اشاعت بھی نہیں ہوسکی جب کہ شہریوں کو روز مرہ کی اشیاء کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

واضح رہےکہ بھارتی حکومت کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی اور لداخ بھی بھارتی یونین کا حصہ ہو گا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس