0
0
0
سڈنی میں کھیلے گئے میچ میں وسیم خان ویں 12کھلاڑی کی حیثیت سے فیلڈنگ کر رہے تھے: احسان مانی کا دعویٰ

شعیب سعید آسی

چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان سے متعلق جھوٹ کا پول ریکارڈ بک نے کھول دیا۔

ایک طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے بغیر کرکٹ کی دنیا مکمل نہیں ہوتی تو دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ پی سی بی کے مختلف معاملات میں غیر پیشہ ورانہ کام کرنے کے انداز پر بھی سوالات کا اٹھنا کوئی حیران کُن بات نہیں۔

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی جنہیں 1999ء ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کے خلاف شکست کی تحقیقات کرنے والے جسٹس (ر) بھنڈاری کمیشن میں بلایا گیا تھا، اب پی سی بی کے سربراہ ہیں جن کے بقول 350 لوگوں میں سے 48 سال کے وسیم گلریز خان کو مینجگ ڈائریکٹر چنا گیا ہے۔

20لاکھ روپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والے وسیم خان پی سی بی کی تاریخ کے مہنگے ترین ملازم بن گئے ہیں جن کے بارے میں پی سی بی کے سابق سربراہ نجم سیٹھی کا مؤقف ہے کہ احسان مانی پہلے سے وسیم خان کو جانتے تھے اور اسی لیے انہیں پی سی بی آئین میں غیر موجود مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر لاکر بٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب چیئر مین پی سی بی احسان مانی اور وسیم خان دونوں ہی اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

یہاں حیران کُن امر یہ ہے کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ وسیم خان سے پہلے کبھی نہیں ملے اور نا انہیں جانتے ہیں، انہیں یہ یاد ہے کہ 1997 میں آسڑیلیا میں کھیلے گئے کارلٹن اینڈ یونائیٹڈ سیریز میں آسڑیلیا کے خلاف سڈنی میں کھیلے گئے میچ میں وسیم خان ویں 12کھلاڑی کی حیثیت سے فیلڈنگ کر رہے تھے اور انہیں اس کے لیے اس ٹیم کے کپتان وسیم اکرم نے راضی کیا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ریکارڈ کے صفحات میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی کے جھوٹ کا پول اس دورے کے اسکور کارڈز نے کھول دیا ہے کہ 1997 کی اس سیریز میں میزبان آسڑیلیا کے ساتھ دیگر دو ٹیمیں پاکستان اور ویسٹ انڈیز تھیں اور سڈنی میں پاکستان نے تین ون ڈے کھیلے تھے۔

یکم جنوری 1997 کو آسڑیلیا کے خلاف پاکستان کے 12 ویں کھلاڑی محمد زاہد تھے۔ 14 جنوری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 12 ویں کھلاڑی شاہد نذیر تھے جب کہ 18جنوری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی 12 ویں کھلاڑی شاہد نذیر ہی تھے۔

اس دورے پر موجود کئی کرکٹرز بھی چیئرمین پی سی بی کے بیان سے لاعلم ہیں کہ وسیم خان نے آسڑیلیا کے خلاف سڈنی میں بطور 12 واں کھلاڑی فیلڈنگ کے فرائض انجام دئیے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیئرمین پی سی بی کا یہ کہنا کتنا سچ ہے کہ وہ برطانوی نژاد پاکستانی وسیم خان کو نا پہلے کبھی ملے اور نا جانتے ہیں، کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے؟

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس