0
0
0
شعیب اختر نے بین الاقوامی کرکٹ میں 444 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں

شعیب سعید آسی

قومی ٹیم کے سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں عہدے کے لیے دلچسپی ظاہر کر دی۔

ورلڈ کپ 2019 کی شکست کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے پی سی بی کرکٹ کمیٹی کی اہم بیٹھک 2 اگست کو ہیڈ کوارٹر لاہور میں منعقد ہو رہی ہے۔ اجلاس کی سربراہی پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کریں گے۔

قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق پہلے ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں جب کہ کپتان سرفراز احمد اور کوچ مکی آرتھر بورڈ کے عہدوں پر براجمان رہنے کے خواہش مند ہیں۔

دوسری جانب بورڈ میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں کئی سابق ٹیسٹ کرکٹرز کمر کس چکے ہیں۔اس فہرست میں تازہ اضافہ ٹیسٹ کرکٹ کے تیز ترین بولر شعیب اختر کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

آئندہ ماہ 13 اگست کو 44ویں سالگرہ منانے والے شعیب اختر نے بین الاقوامی کرکٹ میں 444 وکٹیں حاصل کیں، بحیثیت کرکٹ مبصر اپنا ایک مقام رکھتے ہیں، ان کے جارحانہ تبصرے عموماً کرکٹ کے حلقوں میں موضوع بحث رہتے ہیں، بالخصوص ورلڈ کپ کے دوران شعیب اختر کی کپتان سرفراز احمد پر کڑی تنقید خاص توجہ کا مرکز رہی۔

کرکٹ کی دنیا میں راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے پہچانے جانے والے شعیب اختر نے حال ہی میں 10 لاکھ سبسکرائبرز مکمل کر کے تیز ترین یو ٹیوب گولڈن بٹن حاصل کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں ذمہ داری ملنے سے متعلق سوال پر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے فیصلوں کو دیکھ کر دل دکھتا ہے، ہم نے اس ملک کے لیے بڑے بڑے میچ جیتے، اب اپنی ٹیم کو بناء لڑتے ہارتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ میں اگر ذمہ داری کے لیے بلایا گیا تو انکار نہیں کروں گا۔

یاد رہے سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے مشیر کی حیثیت سے کام کرنے والے شعیب اختر نے احسان مانی کے چیئرمین بنتے ہی استعفیٰ پیش کر دیا تھا،

46 ٹیسٹ میں 25.69 کی اوسط سے 178وکٹیں حاصل کرنے والے شعیب اختر انگلش کاؤنٹی سرے، سمرسیٹ اور ووسٹر شائر کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

پی سی بی کے 48 سال کے منیجگ ڈائریکڑ وسیم گلریز خان ڈاربی شائر، سسیکس، واروکشائر کی نمائندگی کا تجربہ رکھتے ہیں۔

البتہ 58 فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کا تجربہ رکھنے والے وسیم خان ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی جدید طرز کی کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے شعیب اختر کے تجربے سے استعفادہ کرتا ہے یا نہیں؟

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس