0
0
0
عمران خان کی حکومت بٹن دبانے سے نہیں بلکہ جدوجہد سے جائے گی، ہماری جدوجہد سے عمران خان کی حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے گی: سابق صدر کی میڈیا سے گفتگو

شعیب سعید آسی

 سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی کمزوریوں کا انعام عمران خان ہے۔ 

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت جا رہی ہے، ان کی حکومت جانے میں چار سے پانچ مہینے لگیں گے۔

اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ اگر یہ جا رہے ہیں تو آئے گا کون ؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتیں آئیں گی، عمران خان کی حکومت بٹن دبانے سے نہیں بلکہ جدوجہد سے جائے گی اور اپوزیشن جدوجہد کر رہی ہے، ہماری جدوجہد سے عمران خان کی حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل بلاول بھٹو اور مریم نواز کا ہے اور اب ہم ان کو گائیڈ لائن دیں گے، مریم نواز ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم انہیں مشورہ دیتے رہیں گے۔

سابق صدر نے راجہ ظفرالحق سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سینیٹ میں اکثریت ن لیگ کی ہے، ہو سکتا ہے نیا چئیرمین ان کا ہی ہو، راجہ ظفر الحق سے متعلق مریم نواز سے پوچھیں مجھ سے نہیں۔

اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں ہم سے غلطیاں بھی ہوئیں، کوشش ہوگی آئندہ ایسا نہ ہو، اپوزیشن جماعتیں آئندہ ہوشیار رہیں گی کیوں کہ ہماری کمزوریوں کا انعام ہی عمران خان ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق آصف زرداری نے کہا کہ شروع دن سے کہہ رہا ہوں نواز شریف کی صحت خراب ہے، نوازشریف کو کم از کم گھر میں نظر بند کیا جائے۔

پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنا پارلیمانی روایات کے خلاف ہے، یہ جتنا پارلیمنٹ کو کمزور کریں گے خود صلہ پائیں گے، آج ہوسکتا ہے میرے آخری پروڈکشن آرڈر ہوں لیکن 2020 پاکستان کی بہتری کا سال ہوگا۔

پی پی کے صدر کے مطابق یہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین بینک سے قرضے لینے جا رہے ہیں، یہ ایسے ادارے ہیں جو آپ کے سفارتخانے ضبط اور ائیرلائن روک لیں گے، مشیر خزانہ ٹیکنو کریٹ ہیں اور وہ ایسی باتیں سمجھتے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سویلین مارشل لاء ہے، سویلین کردار ہوگا تو سویلین حکومت بنے گی، آل پارٹیز حکومت بنتی ہے یا الیکشن ہوتے ہیں یہ وقت بتائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مزید کہنا تھا کہ خاص لوگ ہیں جو ڈرائی کلین نہیں ہو رہے ہیں لیکن ڈرائی کلین کے باوجود جن میں میل رہ رہا ہے وہ پکڑے جا رہے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس