0
0
0
آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کیس میں شہباز شریف نیب عدالت میں پیش ہوئے۔

شعیب سعید آسی

 آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کی سماعت 13 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔لاہور کی احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔

سابق پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

آشیانہ اقبال کیس میں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جب کہ عدالت نے آئندہ سماعت پر دیگر ملزمان کو بیانات قلمبند کرانے کے لیے طلب کر لیا۔

سماعت کے موقع پر شہباز شریف نے کمر کی تکلیف کے باعث عدالت سے واپسی کی اجازت مانگی جس پر عدالت نے انہیں پہلے اجازت دینے سے انکار کر دیا تاہم کچھ دیر بعد شہباز شریف کو جانے کی اجازت مل گئی جس کے بعد وہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔

کیس کی سماعت کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر بند کیا گیا ہے جب کہ پولیس کی اضافی نفری احتساب عدالت کے اندر اور باہر تعینات رہی۔ عدالت نے کیس کی سماعت 13 جولائی تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو نیب نے گزشتہ برس 5 اکتوبر کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا لیکن جب وہ بیان ریکارڈ کرانے پہنچے تو انہیں آشیانہ اسکیم کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

 آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل اور شہباز شریف پر عائد الزامات:

نیب آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کررہا ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد پہلے ہی گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈی جی فواد حسن فواد کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کی آخری پیشی پر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو آمنے سامنے بٹھایا گیا۔ نیب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر فواد حسن فواد نے کہا تھا کہ 'میاں صاحب آپ نے جیسے کہا میں ویسے کرتا رہا'۔

نیب کے مطابق شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب آشیانہ اسکیم کے لیے لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر منسوخ کروا کے پیراگون کی پراکسی کمپنی 'کاسا' کو دلوا دیا۔

نیب کا الزام ہے کہ شہباز شریف نے پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا اور پھر یہی ٹھیکہ پی ایل ڈی سی کو واپس دلایا جس سے قومی خزانے کو 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسلٹنسی کانٹریکٹ ایم ایس انجینئر کنسلٹنسی کو 19کروڑ 20 لاکھ روپے میں دیا جبکہ نیسپاک کا تخمینہ 3 کروڑ روپے تھا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس