0
0
0
عظیم سماجی رہنما نے اپنی خدمات کا آغاز 1951 میں ایک ڈسپنسری قائم کرکے کیا۔ عبد الستار ایدھی نے صرف 5000 روپے کے ساتھ اپنا پہلا فلاح و بہبود مرکز قاٗئم کیا اور پھر ایدھی ٹرسٹ قائم کیا۔

شعیب سعید آسی

انسانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے مشہور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو آج ہم سے بچھڑے تین سال بیت گئے لیکن دہائیوں تک انسانیت کی بلاتفریق خدمت کرنے والے ایدھی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہیں۔

عبدالستار ایدھیؒ 28فروری 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، یہ بات آگے کی زندگی میں ایدھی صاحب کے لیے کامیابی کی کنجی ثابت ہوئی۔عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی کے 65 برس دکھی انسانیت کی خدمت میں گزارے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کا قیام:

عظیم سماجی رہنما نے اپنی خدمات کا آغاز 1951 میں ایک ڈسپنسری قائم کرکے کیا۔ عبد الستار ایدھی نے صرف 5000 روپے کے ساتھ اپنا پہلا فلاح و بہبود مرکز قاٗئم کیا اور پھر ایدھی ٹرسٹ قائم کیا۔ 

 ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس گردانی جاتی ہے جو پاکستان کے ہر شہر میں لوگوں کی خدمت میں مصروف ہے اسی بناء پر عبدالستار ایدھی کو 1997 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کے طور پر شامل کیا گیا۔

اسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بینک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول کھولے۔ 

پاکستان کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی دکھی انسانیت کی خدمت سرانجام دے رہی ہے۔

ایدھی کے اعزازت:

1980 کی دہائی میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز سے نوازا جب کہ پاک فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر کا اعزاز دیا اور 1992 میں حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی ننیٹ کا اعزاز دیا۔

بین الاقوامی سطح پر 1986 میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے رومن میگسے ایوارڈ دیا اور 1993 میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلو دیا گیا۔

عبدالستار ایدھی گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور علالت کے باعث 8 جولائی 2016 کو خالق حقیقی سے جاملے۔

عبدالستار ایدھی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

حکومت پاکستان نے انہیں بعد از مرگ نشانِ امتیاز سے بھی نوازا۔عظیم شخصیت کے اعزاز میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 50 روپے مالیت کا سکہ بھی جاری کیا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس