0
0
0
افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے جرمنی اور قطر کے تعاون سے مذاکرات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

شعیب سعید آسی

قطر اور جرمنی کے تعاون سے افغان وفد اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے دو روزہ کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔

افغانستان کے سیاستدانوں، سول سوسائٹی اور صحافیوں پر مشتمل 50 رکنی وفد آج طالبان سے دوحا میں ملاقات کر رہا ہے جس میں قیام امن سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان میں سابق افغان سفیر عمر زخیلوال بھی کانفرنس میں شریک ہیں جن کا کہنا ہے کہ طالبان سے ملاقات کا مقصد امن مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے جب کہ آج کی کانفرنس امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا حصہ ہے۔

طالبان نے افغانستان کی موجودہ اشرف غنی حکومت سے براہ راست مذاکرات سے صاف انکار کر رکھا ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ حکومتی افراد ذاتی حیثیت میں کانفرنس میں شریک ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں اور وہ اشرف غنی حکومت کو امریکا کا کٹھ پتلی قرار دیتے براہ راست امریکا سے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس