دماغی بیماری کو مقامی طور پر 'چمکی بخار' کہا جارہا ہے

شعیب سعید آسی

بھارتی ریاست بہار میں ممکنہ طور پر لیچی کھانے سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے والے  ہلاک بچوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہار میں مبینہ طور پر لیچی کھانے سے بچے ذہنی بیماری کا شکار ہونے کے بعد موت کے منہ میں جارہے ہیں اور مقامی طور پر اس بیماری کو 'چمکی بخار' کہا جارہا ہے۔

ابتدا میں بہار کے ہیلتھ منسٹر منگل پانڈے کے مطابق چکمی بخار میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 57 تھی، بعدازاں بہار اور مظفر گڑھ کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج بچوں کی مزید اموات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

غیرسرکاری اعداد کے مطابق ذہنی بیماری سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں کچھ بچوں کی موت ان کے گاؤں میں ہوئی جو رپورٹ نہ ہوسکیں۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لیچی میں زہریلا مواد بچوں کی موت کا سبب ہو سکتا ہے جب کہ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں میں یہ بیماری موسم گرما میں لیچی کے سیزن میں پھیلتی ہے۔  

بھارتی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دماغ کی سوزش کی بیماری میں مبتلا فرد کا بلڈ شوگر اچانک گر جاتا ہے جس سے موت واقع ہوتی ہے۔ 

مظفر گڑھ اور ہمسایہ ریاستوں میں گرمیوں کے موسم میں یہ بیماری 1995 سے سامنے آ رہی ہے جسے مقامی زبان میں 'چمکی' بخار بھی کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2014 میں بھی بھارتی ریاست بہار میں اسی بیماری سے 150 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس