0
0
0
زرداری ہاؤس کے اطراف بھاری تعداد میں اہلکار تعینات ہیں، پولیس نے زرداری ہاؤس کے اطراف راستے سیل کردیے اور مرکزی سڑک بھی سیل کردی گئی۔

شعیب سعید آسی

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد نیب کی ٹیم نے آصف زرداری کو گرفتار کرلیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم جعلی اکاؤنٹس کیس میں پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ زرداری ہاؤس اسلام آباد پہنچی جہاں آصف زرداری کے وکلاء نے نیب کی ٹیم سے عدالت کی جانب سے گرفتاری کے احکامات طلب کیے۔

اس موقع پر زرداری ہاؤس کے اطراف بھاری تعداد میں اہلکار تعینات ہیں، پولیس نے زرداری ہاؤس کے اطراف راستے سیل کردیے اور مرکزی سڑک بھی سیل کردی گئی۔

زرداری ہاؤس  پہنچنے پر نیب ٹیم، آصف زرداری اور ان کے وکلاء کے درمیان کچھ دیر بات چیت ہوئی جس کے بعد سابق صدر نے گرفتاری دینے پر آمادگی ظاہر کردی۔

گرفتاری کے موقع پر آصف زرداری اپنی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری سے ملے اور انہیں گلے لگایا جب کہ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے اور گاڑی میں بیٹھتے وقت ان سے ملے۔

نیب کی ٹیم آصف زرداری کو زرداری ہاؤس سے لے کر نیب راولپنڈی کے دفتر روانہ ہوئی تو اس موقع پر پیپلزپارٹی کے کارکنان اور پولیس اہلکاروں کےدرمیان ہاتھا پائی ہوئی۔

ٹیم نے آصف زرداری کو نیب کے میلوڈی آفس پہنچایا، سابق صدر کو آج رات نیب راولپنڈی کے دفتر میں رکھا جائے گا جہاں ان کا طبی معائنہ کرایا جائے گا جب کہ کل انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

نیب ذرائع کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس میں نامزد آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو فوری گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آصف زرداری کے رکن پارلیمنٹ ہونے کے سبب نیب کو ان کی گرفتاری سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کرنا ضروری ہے جس کے لیے نیب کی ایک ٹیم پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی تھی جس نے اسپیکر کو آصف زرداری کے وارنٹ کے بارے میں مطلع کیا۔

فریال تالپور کو فوری گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب نیب کی ٹیم نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں نامزد آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو فوری طور پر گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سابق صدر کی گرفتاری کے موقع پر نیب کی ٹیم فریال تالپور کی گرفتاری کے وارنٹ نہیں لائی تھی۔

آصف زرداری کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

علاوہ ازیں آصف زرداری نے ضمانت کے لیے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ان کی قانونی ٹیم نے درخواست ضمانت تیار کرلی۔

آصف زرداری نے ہائیکورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقول کی درخواست دے دی ہے جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ آج شام ہی جاری ہونے کا امکان ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس