0
0
0
ان قصائد کو ”معلقات“ کہا جاتا تھا۔ عنتر ان عرب شعراء میں سے ایک ہیں جس کا قصیدہ ”معلقات“ میں شامل کیا گیا۔

شعیب سعید آسی

لیلیٰ مجنوں کا قصہ رومانوی ادب میں عام ہے۔ نہ صرف مشرق وسطی کا بچہ بچہ محبت کی اس امر کہانی سے واقف ہے بلکہ مغرب میں بھی اس پر فلمیں بن چکی ہیں مگر شاید کئی لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ عرب کی سرزمین پر صرف لیلیٰ مجنوں کی محبت کی کہانی نے ہی نہیں بلکہ لازوال محبت کی کئی داستانوں نے جنم لیا جن میں سے ایک عنتر اور عبلہ کی محبت کی ادھوری کہانی بھی ہے۔

عنتر کون ہے؟

عنتر کا اصل نام عنترہ بن شداد العبسی تھاجو بہادر اور جنگجو قبیلے ”عبس“ سے تعلق رکھتے تھے۔ 525ء میں پیدا ہوئے اور  608ء میں انتقال کرگئے۔ عنتر عربوں کے مشہور اور قادر الکلام شاعر تھے۔اسلام سے پہلے شعراء نے جو لازوال قصیدے لکھے انہیں کعبۃ اللہ کی دیواروں پر لٹکایا جاتا ہے۔ ان قصائد کو ”معلقات“ کہا جاتا تھا۔ عنتر ان عرب شعراء میں سے ایک ہیں جس کا قصیدہ ”معلقات“ میں شامل کیا گیا۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں لاٹری نکل آئے تو” لاس اینجلس کی پہلی پرواز “

عنتر بن شداد کی والدہ حبشی شہزادی تھیں جنہیں ایک جنگ میں کنیز بنادیا گیاتھا۔ عنتر کے والد شداد نے ان سے نکاح کرلیالیکن اس کے باوجود انہیں ایک کنیز کی حیثیت سے ہی دیکھاجاتا تھا۔ اس لیے عنترکو معاشرے میں وہ مقام حاصل نہ ہوسکاجس کے وہ حقدار تھے۔ شکل وصورت میں بھی وہ حبشیوں سے شباہت رکھتے تھے۔ 

عنتر اور عبلہ کی کہانی:

عنترکی چچا زادعبلہ ان کے قبیلے کی خوبصورت ترین خاتون تھیں جبکہ عنترشکل وصورت میں اپنے قبیلے میں سب سے کم تر تھے۔عنتر عبلہ کے حسن کے گرویدہ ہوگئے اور انہیں اپنا دل دے بیٹھے۔ عنتر کی محبت یکطرفہ نہیں تھی بلکہ عبلہ بھی ان سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔

 عنتر، عبلہ کا پیغام لے کر اپنے چچا کے پاس گئے مگرانہوں نے رشتہ دینے سے صاف انکار کردیاجس کے بعد خاندانی دباؤ میں آکر چچا نے عبلہ کا رشتہ دینے کے لیے ایک سو نعمانی اونٹنیاں بطور حق مہر پیش کرنے کی شرط رکھ دی۔

 نعمانی اونٹنیاں انتہائی اعلیٰ قسم کی مہنگی ترین اونٹنیاں سمجھی جاتی تھیں۔ان کی قیمت آج کے دور کی ایک سومرسیڈیز گاڑیوں کی قیمت کے برابر تھی۔

یہ شرط صرف عنتر کو نیچا دکھانے کے لیے رکھی گئی تھی کیونکہ سب ہی جانتے تھے کہ عنتر یہ شرط پوری نہیں کرسکتے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس