0
0
0
واقعے میں دو ملزمان ملوث تھے جن میں سے ایک ملزم نذیر کو گرفتار کرلیا جب کہ دوسرا مفرور ہے۔

شعیب سعید آسی

 ڈیفنس کے علاقے فیز 6 خیابان بخاری میں ملزمان کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیفنس 6 خیابان بخاری میں بنگلے کے باہر کھڑی گاڑی میں موجود ملزمان نے پولیس اہلکار کو نشانہ بنایا جس کی زد میں آکر دو راہ گیر بھی زخمی ہوئے۔

تینوں زخمیوں کو فوری طور پر جناح اسپتال لے جایا گیا جہاں پولیس اہلکار اور ایک راہ گیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت خالد کے نام سے ہوئی جو درخشاں تھانے میں تعینات تھا جب کہ دیگر دو شہریوں کی شناخت رمضان اور سعید احمد کے نام سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کو نشانہ بنانے والے ملزم کو اسٹیڈیم روڈ کے نجی اسپتال سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پیر محمد شاہ کے مطابق واقعے میں دو ملزمان ملوث تھے جن میں سے ایک ملزم نذیر کو گرفتار کرلیا جب کہ دوسرا مفرور ہے۔ 

پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ملزم نذیر کا ساتھی اسے اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوا، ملزم نذیر نشے کی حالت میں تھا جس نے فائرنگ کی اور پہلے پولیس اہلکار کو ٹارگٹ کیا جس کے بعد جو بھی اس کے سامنے آیا اسے نشانہ بنایا گیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ قریبی قونصلیٹ کے سیکورٹی گارڈز نے ملزمان کو روکنے کی بھی کوشش کی، ملزمان کے زیر استعمال گاڑی جس کے نام پر رجسٹرڈ تھی اس کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔

پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ملزم نذیر پہلے بھی پولیس کو مطوب تھا جس نے 2018 میں بھی دشمنی پر ایک شخص کو قتل کیا تھا۔

عینی شاہد نے جیونیوز کو بتایا کہ ملزمان نے بڑے اطمینان سے فائرنگ کی جس میں سے ایک ملزم کے پاس اسلحہ تھا اور دوسرا اسے بتا رہا تھا تاہم ملزمان فائرنگ کرنے کے بعد گاڑی کو لاک کر کے فرار ہوئے۔ 

ایس پی کلفٹن سوہائے عزیز کے مطابق ملزمان نشے میں تھے فائرنگ کی آواز سنتے ہی گشت پر موجود اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ملزمان گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے، فائرنگ کی جگہ سے گولیوں کےچار خول ملے۔

 انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی رجسٹریشن نمبر سے گاڑی کے مالکان تک پہنچ گئے ہیں  سی سی ٹی وی ویڈیو دیکھی جارہی ہیں جب کہ علاقے کی جیو فینسنگ بھی کی جارہی ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس