بدھ, اکتوبر 27
d8aadb8cd8b3d8b1db8c d8a7d993d986daa9dabe daa9d986 d8a7d981d8b1d8a7d8af daa9db92 d984db8cdb92 d8a7db8cd8acd8a7d8af daa9db8c
خبریںایشیابین الاقوامیسائنس و ٹیکنالوجی

’تیسری آنکھ‘ کن افراد کے لیے ایجاد کی گئی؟

d8aadb8cd8b3d8b1db8c d8a7d993d986daa9dabe daa9d986 d8a7d981d8b1d8a7d8af daa9db92 d984db8cdb92 d8a7db8cd8acd8a7d8af daa9db8c

سیئول: جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر نے اسمارٹ فون کی دنیا میں مگن رہنے والوں کے لیے ایک ایسا آلہ ایجاد کرلیا جس کی مدد سے وہ راہ چلتے ہوئے خود کو ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ پینگ من ووک نامی اس ڈیزائنر نے ایک روبوٹک آئی بال ڈیولپ کیا ہے جسے کوئی بھی موبائل فون کا جنونی شخص اپنے ماتھے پر نصب کرسکے گا۔

اس آلے کو پینگ من ووک نے ’تیسری آنکھ‘ کا نام دیا ہے جبکہ اسے ’فونو ساپینز‘ کہا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تیسری آنکھ اس وقت کام شروع کردیتی ہے جب اس کا استعمال کنندہ اپنی نگاہیں اسمارٹ فون پر مرتکز کرتا ہے اور جب وہ اسمارٹ فون میں گم ہوجاتا ہے اور کسی رکاوٹ یا خطرے سے ایک یا دو میٹر دور ہوتا ہے تو یہ آلہ ایک ہیپ پر مبنی وارننگ جاری کرنا شروع کردیتا ہے۔

پینگ رائل کالج آف آرٹ اینڈ امپیریل کالج کے ڈیزائن انجینئرنگ میں پوسٹ گریجویٹ ان انوویشن کے طالب علم ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں کے مستقبل کی تیسری آنکھ ہوگی۔

اس آنکھ کو صاف شفاف پلاسٹک سے بنایا گیا ہے جس کے اندر ایک اسپیکر نصب ہے، اس آنکھ میں الٹرا سونک سینسر بھی لگائے گئے ہیں جس کی مدد سے انسان سامنے موجود چیزیں دیکھ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے