تحریر: سعید آسی

نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں قید و جرمانہ کی سزائیں ‘ فلیگ شپ ریفرنس میں بریت اور زرداری کے گرد شکنجہ

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید بامشقت‘ اڑھائی کروڑ ڈالر اور ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنادیا۔ جرمانہ کی مجموعی رقم پانچ ارب روپے ہے۔ انہیں اس ریفرنس میں دس سال تک کسی عوامی عہدے کیلئے نااہلیت کی سزا بھی سنائی گئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے میاں نوازشریف کو بری کر دیا اور اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ میاں نوازشریف کیخلاف کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی یہ کیس بنتا ہے۔ عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کا مفصل فیصلہ بھی جاری کردیا گیا تاہم اس فیصلے کی کاپی منگل کے روز بھی میاں نوازشریف کے وکلاء کو فراہم نہ کی جاسکی۔ میاں نوازشریف 131 صفحات پر مشتمل اس فیصلہ کیخلاف دس روز کے اندر اندر ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں جس کیلئے انہیں فیصلے کی مصدقہ کاپی درکار ہے۔ فیصلے کے بعد نیب اہلکاروں نے میاں نوازشریف کو کمرۂ عدالت میں ہی حراست میں لے لیا تاہم انہوں نے احتساب عدالت کے احکام کے تحت اڈیالہ جیل جانے سے انکار کردیا اور عدالت سے استدعا کی کہ انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کیا جائے۔ اگرچہ احتساب عدالت نے انکی یہ استدعا منظور کرلی تاہم انہیں ایک روز اڈیالہ جیل رکھنے اور پھر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کے احکام صادر کئے جس پر میاں نوازشریف کو پیر کے روز احتساب عدالت سے اڈیالہ جیل بھجوادیا گیا جہاں سے انہیں منگل کے روز پی آئی اے کی خصوصی پرواز کے ذریعے لاہور لے جایا گیا اور ایئرپورٹ سے سیدھا کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے عہدیداران اور کارکن انکی سالگرہ کا کیک لے کر پہلے ہی کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچ چکے تھے تاہم وہ پارٹی کارکنوں کی اہتمام کردہ اپنی سالگرہ کی تقریب میں شرکت سے محروم رہے اور بکتربند گاڑی انہیں سیدھا جیل کے اندر لے گئی۔ وہ پیر کی سہ پہر پارٹی قائدین‘ عہدیداروں اور کارکنوں کے جلو میں احتساب عدالت آئے جبکہ احتساب عدالت کے باہر بھی سینکڑوں پارٹی کارکن موجود تھے جنہوں نے میاں نوازشریف کی آمد پر زبردست نعرے بازی کی اور کمرۂ عدالت میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔ اسی طرح مسلم لیگی کارکنوں نے میاں نوازشریف کی سزا کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد بھی کمرۂ عدالت کے باہر زبردست مخالفانہ نعرہ بازی کی۔

میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے‘ جنہوں نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی تھی‘ احتساب عدالت کے فیصلہ پر اپنے ٹویٹر پیغام کے ذریعے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اندھا انتقام ہے جس کے تحت ایک ہی شخص کو چوتھی بار سزا دی گئی ہے۔ انکے بقول یہ اندھے انتقام کی آخری ہچکی ہے جس میں فتح نوازشریف کی ہوئی ہے کیونکہ آج کے فیصلے نے انکی امانت‘ صداقت اور دیانت پر ایک اور مہر لگادی ہے۔ انہوں نے میاں نوازشریف کو سالگرہ کی بھی مبارکباد دی اور اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ آپ جیو ہزاروں سال۔ اسی طرح سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے فیصلہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر یہ تاریک فیصلے ہیں جنہیں عوام اور تاریخ قبول نہیں کرتی۔ انکے بقول پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا فیصلہ ہے جو عدالت کو بند کرکے سنایا گیا۔ ہم اس پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کرینگے۔ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے احتساب عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف سرخرو ہیں‘ ان پر ایک بھی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔ انکے بقول ہم نے پہلے بھی جیلوں کا سامنا کیا اور اب بھی ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب نیب کے پیچھے چھپ کر نہ کھیلیں۔

میاں نوازشریف کے وکلاء اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین و عہدیداران فلیگ شپ ریفرنس میں نیب عدالت سے انکی بریت پر اس حوالے سے مطمئن اور سیاسی مستقبل میں بہتری کیلئے پرامید ہیں کہ اسی ریفرنس میں عائد کردہ الزامات کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فل بنچ نے انہیں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ اگر یہ الزامات احتساب عدالت میں ثابت نہیں ہو سکے تو میاں نوازشریف کیلئے اپنی تاحیات نااہلیت کیخلاف عدالت عظمیٰ میں دوبارہ نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا جواز نکل آیا ہے جبکہ اسی تناظر میں میاں نوازشریف کے وکلاء العزیزیہ ریفرنس میں انکی ضمانت پر رہائی کیلئے بھی پرامید ہیں۔ اس بارے میں بہرصورت مجاز عدالت نے ہی فیصلہ کرنا ہے جبکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے ملنے والی قیدوجرمانہ کی سخت سزائوں میں میاں نوازشریف‘ انکی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانتیں منظور بھی ہوئی ہیں۔

اس وقت شریف فیملی ہی نہیں‘ سابق صدر اور پیپلزپارٹی پارلیمٹنیرین کے صدر آصف علی زرداری بھی کرپشن کے سنگین الزامات کی بنیاد پر سخت ترین آزمائش میں ہیں اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بنچ نے گزشتہ روز میگا منی لانڈرنگ اور جعلی بنک اکائونٹس کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں آصف علی زرداری‘ انکی بہن فریال تالپور‘ بحریہ ٹائون اور اومنی گروپ سے 31؍ دسمبر تک جواب طلب کرلیا ہے جبکہ بحریہ ٹائون کے زیرتفتیش اثاثے منجمد کرکے فاضل عدالت عظمیٰ نے چیئرمین بحریہ ٹائون ملک ریاض کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ بے شک کرپشن کا مکمل قلع قمع اور اس میں ملوث بالخصوص بڑی مچھلیوں کو قانون و انصاف کے کٹہرے میں لانا پوری قوم کا مطمحٔ نظر ہے جس کیلئے قومی احتساب بیورو (نیب) کی فعالیت کے علاوہ پی ٹی آئی کی حکومت اور خود وزیراعظم عمران خان بھی بھرپور عزم کا اظہار اور کسی کرپٹ کو نہ چھوڑنے کا متعدد مواقع پر اعلان کرچکے ہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ معاشرے کو کرپشن کے ناسور سے مکمل طور پر پاک کئے بغیر قائد کے پاکستان کا احیاء ممکن ہے نہ وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کے تصور کو عملی قالب میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں کرپٹ عناصر کی نشاندہی اور ان کیخلاف انصاف و قانون کی کارروائی کیلئے دو سال قبل 4؍ اپریل 2016ء کو منظرعام پر آنیوالی پانامہ لیکس نے راستہ ہموار کیا تھا‘ اس وقت مسلم لیگ (ن) اقتدار میں تھی اور میاں نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز تھے جن کا نام پانامہ لیکس میں سامنے آنے پر اس وقت کی اپوزیشن تحریک انصاف نے اسے کرپشن کے تدارک کیلئے ٹیسٹ کیس بنایا اور حکمران خاندان کیخلاف قانونی اور عدالتی کارروائی کیلئے بھرپور مہم کا آغاز کیا۔ اس پر میاں نوازشریف نے خود ہی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا اور انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا۔ تاہم کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس پر حکومت اور اپوزیشن میں تنازعہ پیدا ہوا جس پر سپریم کورٹ نے خود آف شور کمپنیوں کے کیس کی سماعت شروع کی جس کیلئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا۔ اس بنچ کے روبرو حکمران خاندان ہی کیخلاف آف شور کمپنیوں کا معاملہ زیرسماعت آیا اور اس بنچ نے اکثریت رائے سے شریف فیملی کیخلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ کی بنیاد پر نیب نے میاں نوازشریف‘ انکے صاحبزادوں حسین‘ حسن نواز‘ صاحبزادی مریم نواز‘ داماد کیپٹن صفدر سمدھی اسحاق ڈار کیخلاف تین الگ الگ ریفرنس تیار کرکے احتساب عدالت بھجوا دیئے جبکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور پر میاں نوازشریف کو اقامہ رکھنے کے الزام کے تحت اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا۔ انکی اپیل کے فیصلہ میں انکی نااہلیت تاحیات نااہلیت میں تبدیل ہوگئی۔ بعدازاں احتساب عدالت نے میاں نوازشریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں مختلف المیعاد قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنائی۔ سپریم کورٹ سے احتساب عدالت تک یہ تمام قانونی اور عدالتی کارروائی مسلم لیگ (ن) کے دور اقتدار میں اور پھر جولائی 2018ء کے انتخابات کے عمل تک جاری رہی اور شریف فیملی کے ارکان کو قید وجرمانہ کی سزائیں بھی اس وقت ہوئیں جب انتخابی مہم عروج پر تھی۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) کیلئے یہ الزام عائد کرنے کا جواز نکل آیا کہ حکمران خاندان کیخلاف یہ کارروائی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو دیوار سے لگانے اور اس پارٹی کو انتخابی عمل سے باہر نکالنے کیلئے کی گئی ہے جو مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور عہدیداران کے بقول یکطرفہ کارروائی تھی۔ جب انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو اقتدار کیلئے دوبارہ مینڈیٹ حاصل نہ ہوسکا تو اسکی قیادت نے اسے اپنے خلاف انتقامی سیاسی کارروائیوں کا ہی شاخسانہ قرار دیا۔


اگرچہ نیب کی جانب سے دوسری جماعتوں بشمول پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف کے قائدین اور ارکان کیخلاف بھی فائلیں کھولی گئیں اور تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین اپنے خلاف ریفرنس میں میاں نوازشریف کی طرح نااہل بھی ہوگئے‘ اسکے باوجود مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نیب کے مقدمات اور ریفرنسوں کے تناظر میں یکطرفہ احتساب اور انتقامی سیاسی کارروائی کے الزامات ہی عائد کئے جاتے رہے۔ جب نیب کا رخ پیپلزپارٹی کی قیادت کی جانب ہوا تو اسکے قائدین بھی سیاسی انتقامی کارروائیوں کے الزامات عائد کرنے کے معاملہ میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ یکجہت ہوتے نظر آئے۔ نیب کے باقیماندہ دو ریفرنسوں میں میاں نوازشریف کی قید کے دوران اور ضمانت پر رہائی کے بعد احتساب عدالت کے روبرو تقریباً ڈیڑھ سو پیشیاں ہوئیں تو ہر پیشی پر انہیں اور دوسرے مسلم لیگی قائدین کو یکطرفہ احتساب کا پراپیگنڈہ کرنے کا موقع ملتا رہا۔ اب پیپلزپارٹی کی قیادت بھی نیب کے اقدامات پر احتساب کے عمل پر ایسے ہی الزامات عائد کرتی نظر آتی ہے اور آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت کیخلاف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا جا چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) پہلے ہی رابطۂ عوام مہم کا پروگرام وضع کرچکی ہے تاہم میاں شہبازشریف کے بعد اب میاں نوازشریف کی بھی دوبارہ گرفتاری سے اس پارٹی کو صف بندی کیلئے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا کیونکہ خواجہ برادران سمیت اس پارٹی کے دوسرے قابل ذکر عہدیداران بھی جیل میں ہیں تاہم آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں پیپلزپارٹی سڑکوں پر آگئی تو اس سے مسلم لیگ (ن) کیلئے بھی اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لانے میں آسانی ہو جائیگی۔ اس تناظر میں آنیوالا سال ملک میں سیاسی خلفشار کا عندیہ دے رہا ہے جس میں بہرحال حکمران پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم مل سکتا ہے۔ اس سے عہدہ برأ ہونے کیلئے حکومت کو انصاف کی عملداری اور قانون کی حکمرانی کا اور نیب کو بے لاگ احتساب کا تصور پختہ کرنا ہوگا۔ کرپشن فری سوسائٹی بہرصورت پوری قوم کا مطمح نظر ہے جس پر کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے قائدین خود پر عائد الزامات اور دائر مقدمات کو غلط سمجھتے ہیں تو انصاف کی عملداری میں وہ سرخرو ہو جائینگے تاہم احتساب کا پہیہ اب کسی صورت رکنے نہیں دیا جانا چاہیے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس