0
1
0
تحریر: سعید آسی

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کی سہہ پہر پاکستان بھارت سرحد پر کرتاپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ راہداری بھارتی سکھ کمیونٹی کو پاکستان میں باباگورونانک کے گوردوارہ تک یاترا کی آسانی فراہم کرنے کیلئے بنائی جارہی ہے جس کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر بھارتی پنجاب کے سینئر وزیر اور کرکٹر و فنکار نوجوت سنگھ سدھو کی درخواست پر کرتارپور بارڈر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی‘ سشماسوراج اوربھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ سمیت متعدد بھارتی حکام کو مدعو کیا گیا تھا تاہم مودی‘ سشما سوراج اور امریندر سنگھ نے مختلف عذر پیش کرکے اس تقریب میں شمولیت سے معذرت کرلی جبکہ امریندر سنگھ نے تو پاکستان پر مبینہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کی بوچھاڑ بھی کی۔ بھارتی پنجاب کے سینئر وزیر سدھو سمیت صرف تین وزراءکو مودی سرکار کی جانب سے اس تقریب میں شمولیت کیلئے پاکستان آنے کا اجازت نامہ تو مل گیا مگر بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے ساتھ ہی یہ بھی باور کرادیا کہ یہ وزراءحکومت کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی ذاتی حیثیت سے پاکستان جارہے ہیں۔ پاکستان بھارت دوستانہ اور خیرسگالی کے تعلقات کے احیاءکی بنیاد رکھنے والی اس تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی‘ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار‘ متعدد دوسرے وفاقی اور صوبائی وزراءکے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے۔ وفاقی و مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری نے اس تقریب کا آغاز کرتے ہوئے جہاں نوجوت سنگھ سدھو کو امن کا مہاراج قرار دیا وہیں کرتارپور راہداری کے ساتھ ہوٹل اور گوردوارہ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ سٹیٹ آف دی آرٹ گوردوارہ ہوگا۔

گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے کراچی میں دسویں بین الاقوامی دفاعی نمائش و سیمینار کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دہشت گردی اور پڑوس میں بدامنی نے ہمارے ملک کی سکیورٹی کو براہ راست متاثر کیا ہے اور اس سے ایک لاکھ پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ قومی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اسکے باوجود ہم مہاجرین کو پناہ دیئے ہوئے ہیں۔ انکے بقول پاکستان جنگ کا حامی نہیں کیونکہ جنگیں غربت اور بھوک کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور حقائق سے نظریں چرانے کے بجائے تنازعات کے حل کیلئے دوطرفہ بات چیت کرنی چاہیے۔

یہ درست ہے کہ باہمی تنازعات اور مسائل جنگوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ جنگیں دشمنیاں بڑھاتی اور انسانی تباہ کاریوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے چارٹر میں عالمی برادری اور پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کیخلاف ہتھیاروں کے استعمال سے گریز اور باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی تلقین کی گئی ہے مگر ہمارا یہ المیہ ہے کہ اس خطے میں ہمیں قیام پاکستان کے وقت سے ہی ایک مکار‘ کینہ پرور اور بزدل دشمن بھارت سے پالا پڑا ہے جس نے اس ملک خداداد کی آزاد اور خودمختار حیثیت کو شروع دن سے ہی قبول نہیں کیا اور اسکے برعکس بھارتی لیڈران پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی سازشوں میں مگن ہوگئے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہی دشمنی پر رکھی جس کیلئے انہوں نے تقسیم ہند کے واضح ایجنڈے کے باوجود خودمختار ریاست کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا جس کے پس پردہ انکی یہی بدنیتی تھی کہ وہ پاکستان کو مستحکم نہیں ہونے دینگے اور کشمیر کے راستے سے پاکستان جانیوالے دریاﺅں کا پانی بند کرکے اسکی زرخیز دھرتی کو بنجر بنا دینگے اور اس طرح پاکستان کو اتنا کمزور اور بے بس کردینگے کہ اسکی بقاءممکن نہ رہے۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اسی تناظر میں بڑ ماری تھی کہ پاکستان چھ ماہ بعد ہی بے بس ہو کر ہماری جھولی میں آگرے گا۔

متعصب ہندو لیڈرشپ کی یہ خواہش تو ہرگز پوری نہ ہو سکی اور پاکستان کی معیشت بانی¿ پاکستان قائداعظم کی وضع کی گئی بہتر حکمت عملی کی بنیاد پر مستحکم ہو گئی مگر کینہ پرور بھارت نے اسکی سلامتی کیخلاف اپنی سازشیں ترک نہ کیں۔ بھارتی فوجوں نے مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلنا شروع کردی۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کیا اور بھارت کو کشمیر میں استصواب کے اہتمام کی ہدایت کی مگر بھارتی لیڈر شپ نے متعلقہ یواین قراردادوں کو پرکاہ کی حیثیت بھی نہ دی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا جس پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی آج کے دن تک برقرار ہے۔ دوسری جانب بھارت نے پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی نیت سے ہی اس پر تین جنگیں مسلط کیں اور 71ءکی جنگ میں مکتی باہنی کے ذریعے وہ سقوط ڈھاکہ کی نوبت لے آیا۔ اس طرح بھارت نے پاکستان کو دولخت کرکے صفحہ¿ ہستی سے مٹانے کی اپنی مذموم منصوبہ بندی کی جزوی تکمیل کی اور پھر باقیماندہ پاکستان کی سلامتی کے درپے ہوگیا جس کیلئے اس نے خود کو ایٹمی قوت بنایا اور پاکستان کے ساتھ آبی دہشت گردی کا بھی آغاز کردیا جبکہ سقوط ڈھاکہ باعث کمزور ہونیوالے پاکستان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکر بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو شملہ میں بلا کر انکے ساتھ باہمی تنازعات صرف دوطرفہ مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کا معاہدہ کرلیا جس کا مقصد کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں غیرمو¿ثر بنانا تھا۔ اسی بنیاد پر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ یا کسی دوسرے عالمی یا علاقائی فورم سے رجوع کرنے کی پاکستان کی ہر کوشش پر چیخ و پکار کرتا ہے جبکہ شملہ معاہدہ کو بھی اس نے اس طرح غیرمو¿ثر بنادیا ہے کہ اس نے آج تک پاکستان بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کی کبھی نوبت ہی نہیں آنے دی۔

بدقسمتی سے اس خطہ میں امریکی مفادات در آئے تو بھارت کو امریکی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی جس سے پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنے عزائم کی تکمیل کے معاملہ میں اسکی مزید حوصلہ افزائی ہوئی۔ آج امریکہ بھارت گٹھ جوڑ پھل پھول رہا ہے تو اس سے پاکستان کی سلامتی کو ہی سب سے زیادہ خطرات لاحق ہورہے ہیں کیونکہ بھارتی ایماءپر واشنگٹن انتظامیہ بھی پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے جو دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے بے لوث کردار اور عظیم قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا ملبہ اس پر ڈالنے میں ذرہ بھر نہیں چوکتی اور اسکے ساتھ ڈومور کے تقاضوں میں شدت پیدا کرکے اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب ٹرمپ انتظامیہ نے تو اس معاملہ میں انتہاءکردی ہے جس نے بھارتی ایماءپر ہی پاکستان کی سول اور فوجی گرانٹ بند کرنے کا اعلان کرکے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے اور ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو اسامہ بن لادن کیخلاف اپریشن میں عدم تعاون کا موردالزام ٹھہرانے کے بعد اب امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے ممبئی حملوں کا ملبہ بھی دوبارہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے ڈومور کے تقاضے بڑھادیئے گئے ہیں۔ یہ امریکی شہ ملنے کے بعد گزشہ روز بھارتی وزیر دفاع نے بھی یہ بڑ مار دی ہے کہ پاکستان نے اکسایا تو ہم اسکی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے۔

بھارتی فوجوں نے مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر پہلے ہی کشیدگی کی انتہاءکر رکھی ہے جہاں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کشمیری نوجوانوں کو شہید اور کنٹرول لائن سے ملحقہ پاکستان کی سول آبادیوں پر گولہ باری کرکے پاکستان کے ساتھ جنگ کی کیفیت پیدا کی جارہی ہے۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت اور وزیراعظم مودی پہلے ہی پاکستان پر سرجیکل سٹرائکس اور باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے ذریعہ بھی پاکستان کی سلامتی کمزور اور پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کی بھیانک سازشیں کی جارہی ہیں۔

بھارت کی پیدا کردہ سرحدی کشیدگی کی اس انتہاءمیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارت سے باہمی مذاکرات کے ذریعہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی خواہش کا اظہار کیا گیا جس کا پرلے درجے کی منافقت کا مظاہرہ کرکے پہلے بھارت کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا‘ یواین جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان بھارت وزراءخارجہ کی باضابطہ ملاقات پر بھی آمادگی ظاہر کردی گئی اور دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی تنازعات حل کرنے کا بھی عالمی قیادتوں کو تاثر دے دیا گیا مگر پھر بھارت یکایک اپنی تمام باتوں اور اعلانات سے منحرف ہوگیا اور اسکے برعکس پاکستان پر حسب سابق دہشت گردی کا ملبہ ڈالتے ہوئے اسکے ساتھ کشیدگی مزید بڑھانا شروع کردی۔ اس صورتحال میں کرتارپور راہداری قائم کرنے کا حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان ہوا تو جہاں یہ اقدام پاکستان اور بھارت کے دیرینہ تنازعات بشمول مسئلہ کشمیر کے دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کے معاملہ میں پاکستان کی جانب سے عملی پیش رفت تھا وہیں اس سے خطے میں امن و خوشحالی کے راستے بھی کھل سکتے تھے جو علاقائی امن و آشتی کیلئے پاکستان کی نیک نیتی کا غماز ہے مگر بھارت کی متعصب اور انتہاءپسند ہندو لیڈرشپ کو پاکستان کے ساتھ امن و آشتی سے رہنا اور باہمی مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ تنازعات حل کرنا کسی صورت گوارا ہی نہیں۔ چنانچہ مودی سرکار کی جانب سے نہ صرف کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شمولیت سے گریز کیا گیا بلکہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کیلئے ممبئی حملوں کے حوالے سے بلیم گیم کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کردیا۔

عام حالات میں تو کرتارپور راہداری کا کھلنا پاکستان اور بھارت کے مابین خوشگوار دوستانہ تعلقات کے احیاءکی ضمانت بن سکتا تھا مگر بھارت ہمارے ساتھ اچھے ہمسایہ کے طور پر رہنا ہی نہیں چاہتا چنانچہ گزشتہ روز بھارتی میڈیا پر کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان کیخلاف مسلسل ہرزہ سرائی کی جاتی رہی اور اسکے ساتھ ساتھ بھارتی فوجوں نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنوں کی فائرنگ کا سلسلہ بھی تیز کردیا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کو ہمارے ساتھ دوستی کے بجائے محض دشمنی بڑھانے اور کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کے اقدامات اٹھانے سے ہی سروکار ہے۔ ہماری جانب سے تو بہرصورت دنیا کو بھارت کے ساتھ امن سے رہنے کا ٹھوس پیغام دے دیا گیا ہے۔ اگر بھارت اپنے ایجنڈے کے تحت پاکستان کے ساتھ دشمنی بڑھا رہا ہے جس کا نتیجہ علاقائی اور عالمی تباہی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے تو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر عالمی قیادتوں کو بھارت کے جنونی ہاتھ بہرصورت روکنا ہونگے۔ ہماری سیاسی‘ حکومتی اور عسکری قیادتوں کو بھی یہ حقیقت کسی صورت محو نہیں ہونے دینی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کا یواین قراردادوں کے مطابق حل ہی پاکستان بھارت دوستی کی بنیاد ہے۔ اسکے بغیر بھارت سے ہمارے کسی قسم کے مراسم استوار ہوسکتے ہیں نہ پاکستانی قوم کو کشمیر کے بغیر بھارت کے ساتھ دوستی قبول ہوگی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس