تحریر: سعید آسی

وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین نے بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سرکاری اداروں کے ذمہ واجب الادا میڈیا کے بقایاجات کی فوری ادائیگی کی ہدایات جاری کردی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی باور کرادیا ہے کہ وہ میڈیا اداروں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار نہیں ہونے دینگے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت میڈیا سے متعلق اہم اجلاس کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں فواد چودھری نے بتایا کہ وزیراعظم نے میڈیا اداروں کو درپیش مشکلات کا احساس ہونے کے باعث ہی یہ ہدایت جاری کی ہے کہ میڈیا کے تصدیق شدہ تمام بقایاجات فوری طور پر ادا کئے جائیں۔ انکے بقول سابقہ حکومتوں نے سرکاری اشتہارات کو ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کیا جبکہ موجودہ حکومت میرٹ پر اشتہارات جاری کریگی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اشتہارات پر سرکاری کنٹرول ختم کررہی ہے اور آئندہ تمام اشتہارات میرٹ پر ہی دیئے جائینگے۔ انہوں نے کہا پچھلی حکومت نے سرکاری اشتہارات کو ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنایا جس کے باعث ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوا۔ انکے بقول تحریک انصاف کی حکومت نے روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا جبکہ میڈیا اداروں کی جانب سے لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بقایاجات کی فوری ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادیٔ اظہار کے بنیادی آئینی حق پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا کو بے مثال آزادی حاصل ہے۔ حکومت آزاد اور ذمہ دار میڈیا کی ترقی کیلئے سہولیات فراہم کرتی رہے گی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت منعقدہ اس اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری‘ وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی‘ وفاقی سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل‘ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان‘ وزیر اطلاعات خیبر پی کے شوکت یوسف زئی اور ڈی جی پی آر بلوچستان سمیت متعلقہ سیکرٹریز انفرمیشن شریک ہوئے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو معاشرے کے دیگر طبقات کے مسائل کی طرح قومی میڈیا کو درپیش مسائل کا بھی مکمل احساس و ادراک ہے چنانچہ گزشتہ ماہ میڈیا کی نمائندہ تنظیموں اے پی این ایس‘ سی پی این ای اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفود سے ملاقاتوں کے دوران بھی انہوں نے میڈیا کے مسائل اور مشکلات کے حوالے سے میڈیا کے نمائندہ وفود کی بات توجہ سے سنی اور یقین دلایا کہ انکی حکومت کے دور میں میڈیا کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی اور حکومت کی جانب سے میڈیا کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کے دوران بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے کا عندیہ دیا اور پھر نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا جو میڈیا کو درپیش گھمبیر مالی مسائل پر وزیراعظم کی فکرمندی کا عکاس ہے۔

یہ امر واقع ہے کہ قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی عملداری‘ آئین و انصاف کی حکمرانی‘ بنیادی شہری حقوق کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے آواز بلند کی ہے اور بانیانِ پاکستان اقبال و قائد کی امنگوں کے مطابق جدید اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے کی تشکیل کیلئے اقتدار کے ایوانوں کے اندر اور باہر کی جانیوالی کاوشوں کا ساتھ دیا ہے اور ملکی وقار اور خودمختاری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ یہ بھی امر واقع ہے کہ قومی میڈیا کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران متعدد کٹھنائیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جمہوری اقدار کا گلا گھونٹ کر اپنے دائمی اقتدار کی خواہش رکھنے والے سول اور جرنیلی حکمرانوں نے اپنی من مانیوں کی خاطر میڈیا کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی اور اسے سرکاری اشتہاروں کی بندش‘ کاغذ کے کوٹے میں کمی‘ نیوز پرنٹ پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافہ سمیت متعدد آمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے زیرنگیں رکھنے کے اقدامات اٹھائے جاتے رہے مگر قومی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔ اس تناظر میں بالخصوص موجودہ دہائی کا آغاز میڈیا کی بقاء کے حوالے سے انتہائی کٹھن ثابت ہوا ہے کیونکہ سابق حکمرانوں کی جانب سے اشتہارات کی مد میں میڈیا کو واجبات کی ادائیگی روک کر اسے مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسکے علاوہ سوشل میڈیا کی فعالیت نے پرنٹ میڈیا کیلئے سرکولیشن کے مسائل بھی کھڑے کردیئے نتیجتاً پرنٹ میڈیا کی آمدنی کا اصل اور بڑا ذریعہ بہت تیزی سے محدود ہونے لگا تو اسکے پاس خودکو اپنے پائوں پر کھڑا رکھنے کیلئے سرکاری اشتہاروں پر تکیہ کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہا۔ اسی طرح جب سابقہ حکمرانوں کی جانب سے اشتہاروں کی فراہمی میں ڈنڈی ماری جانے لگی اور انکے واجبات بھی روک لئے گئے تو قومی میڈیا کو بے پناہ اقتصادی مسائل نے گھیر لیا اور اس کیلئے اپنے ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی۔ نتیجتاً میڈیا انڈسٹری ایک نئے بحران اور کٹھن حالات سے دوچار ہوگئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ نیوز پرنٹ پر ٹیکس میں اضافہ کرکے میڈیا پر مزید اقتصادی بوجھ لاد دیا گیا چنانچہ ان حالات میں قومی میڈیا کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔

یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو جہاں قومی میڈیا کی آزادی اور خودمختاری عزیز ہے‘ وہیں انہیں میڈیا کو درپیش مسائل کا بھی مکمل ادراک ہے۔ چنانچہ میڈیا کے خیرخواہ کی حیثیت سے وہ میڈیا کو سرکاری اشتہارات کی مد میں واجب الادا کروڑوں روپے کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے ہدایات جاری کرنے سمیت تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لا رہے ہیں جس سے جانکنی میں مبتلا میڈیا کو نئی زندگی ملے گی اور وہ قومی کاز کو پروان چڑھانے سمیت اپنی جملہ ذمہ داریاں دوبارہ بحسن و خوبی انجام دینے کی پوزیشن میں آجائیگا۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات پر مکمل اور فوری عملدرآمد کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیراعظم پہلے ہی اس امر کی ہدایت کرچکے ہیں کہ میڈیا کے واجبات فوری ادا کئے جائیں۔ یہ کام بہرصورت اس ہفتے کے اندر اندر ہونا چاہیے اور اگر کسی متعلقہ محکمہ کے پاس میڈیا کے واجبات کی ادائیگی کیلئے فنڈز نہ ہوں تو وفاقی وزارت اطلاعات کو ان کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے گرانٹ جاری کرانی چاہیے۔

واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے یہ حقیقت بہرصورت پیش نظر رکھی جانی چاہیے کہ سرکاری اشتہارات میں ایڈ ایجنسیوں کا شیئر پندرہ فیصد اور میڈیا ہائوسز کا 85 فیصد ہے اس لئے ادائیگیاں اسی تناسب سے کی جانی چاہئیں اور ان سرکاری اداروں کی باقاعدہ طور پر ایک فہرست بھی جاری کی جائے جن کے ذمہ میڈیا کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کون سی ایڈایجنسی کو میڈیا کی واجب الادا کتنی رقوم جاری کی جارہی ہیں اور یہ کب سے واجب الادا ہیں۔ قومی میڈیا ہائوسز کو بہرصورت سرکاری اشتہاروں میں اسکے 85 فیصد شیئر کے مطابق ادائیگیاں یقینی بنائی جانی چاہئیں۔ قومی میڈیا کیلئے وزیراعظم عمران خان کی فکرمندی کی بنیاد پر چونکہ اب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزارت اطلاعات کے متعلقہ حکام کو بھی میڈیا کے مالی مسائل کا ادراک ہوگیا ہے اس لئے توقع کی جانی چاہیے کہ اب میڈیا کے واجبات کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دی جائیگی۔ قومی میڈیا نے بلاشبہ ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے ہمیشہ مثالی کردار ادا کیا ہے اور آزادیٔ صحافت کا جھنڈہ کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ قومی میڈیا کے ارکان نے سول اور جرنیلی آمروں کے ادوار میں اپنے پیشے کے تقدس و وقار کی خاطر قید‘ کوڑوں اور لاٹھی گولی سمیت مختلف سزائیں اور صعوبتیں برداشت کیں مگر اس پیغمبری پیشہ کا وقار مجروح ہونے دیا نہ اس پر کبھی کوئی حرف آنے دیا۔ میڈیا فی الحقیقت قوم کی آنکھ ہے جس کی فعالیت اور اسکے مثبت کردار کی بدولت ہی اقوام عالم میں ہمارا ملکی اور قومی تشخص اجاگر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں قومی میڈیا کو مالی تفکرات سے آزاد رکھنا بہرصورت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کی فکرمندی سے آزاد ہو کر دلجمعی کے ساتھ اپنا قومی فریضہ ادا کرتا رہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس