0
0
0
اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ امن وامان کی صورتحال کے باعث اسلام آباد میں کسی دوسرے آئی جی کی اجازت دی جائے

شعیب سعید آسی

سپریم کورٹ نے نئے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) اسلام آباد کی تقرری سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کی جانب سے نئے آئی جی کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ امن وامان کی صورتحال کے باعث اسلام آباد میں کسی دوسرے آئی جی کی اجازت دی جائے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا نئے آئی جی کے بجائے آپ کسی کو ایڈیشنل چارج دے دیں، اگر ہم نے یہ آرڈر نہ دیا ہوتا تب بھی آپ کسی کو تو لگاتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاست امن و امان کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے، جیسا گزشتہ رات وزیراعظم نے بھی کہا لیکن اگر کسی کے خلاف کیس بنتا ہی نہ ہو تو سزا کیسے دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نبی پاک کے ناموس پر ہم بھی اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور رسول پاک کی توہین کسی کے لیے قابل برداشت نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا ایمان کسی کا کم نہیں ہے، ہم صرف مسلمانوں کے قاضی نہیں ہیں، بینچ میں بیٹھے کئی ججز درود شریف پڑھتے رہتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے آسیہ بی بی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کلمے سے شروع کیا جس میں دین کا سارا ذکر بھی کیا ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عشق کا تقاضا یہ نہیں کہ کیس نہ بھی بنتا ہو تو پھر بھی بنا دیں، ہو سکتا ہے ہم ان سے زیادہ عاشق رسول ہوں، ہم نے اللہ کی ذات کو نبی پاک کی ذات سے پہچانا اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں اور فیصلہ اردو میں اس لیے جاری کیا تاکہ قوم پڑھے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا تھا جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تبادلہ روک دیا تھا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس