بدھ, اکتوبر 27

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے شادی ہالز میں تقریبات پر پابندی کیخلاف درخواست پر این سی او سی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں شادی ہالز میں تقریبات پر پابندی کیخلاف درخواست پر ہوئی ، سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی۔

درخواست گزار مختار عباس اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وکیل مختار عباس نے بتایا کہ این سی او سی کے نوٹفیکیشن کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی جماعتیں بڑے بڑے جلسے کر رہی ہے، کیا ان جلسوں سے کرونا نہیں پھیل رہا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی او سی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت کو 18 نومبر تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

یاد رہے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کرونا وائرس کے دوران شادی کی تقریبات کے لیے گائیڈ لائنز جاری کیں تھی ، جس کے تحت 20 نومبر سے شادی کی ان ڈور تقریب پر پابندی عائد کر دی گئی اور صرف آؤٹ ڈور کی اجازت ہوگی۔

این سی او سی کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 7، سندھ کے 2 اور بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے ایک ایک شہر میں شادی گائیڈ لائنز نافذ ہوں گی۔ ان شہروں میں لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، گوجرانوالہ، گجرات، بہاولپور، فیصل آباد، کراچی و حیدر آباد کے شہری علاقوں، گلگت، مظفر آباد، پشاور اور سوات شامل ہیں۔

این سی او سی کے مطابق مارکیز میں شادی کی تقریب کے انعقاد کی اجازت نہیں ہو گی، شادی کی آؤٹ ڈور تقرہب میں کنوپی ٹینٹ کا استعمال بھی ممنوع ہو گا، آؤٹ ڈور شادی کی تقریب میں ایک ہزار مہمان شرکت کر سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے