0
0
0
سپریم کورٹ نے منشا بم کا معاملہ تحریک انصاف کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا جبکہ کرامت کھوکھر اور ندیم بارا کا معاملہ بھی پی ٹی آئی ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کردیا اور ایم این اے کرامت کھوکھر کی معافی قبول کرتے ہوئے منشا کھوکھر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں قبضہ گروپ منشابم کیس کی سماعت ہوئی، پی ٹی آئی کے ایم این اے ملک کرامت کھوکھر اور ندیم عباس بارا عدالت میں پیش ہوئے۔
کرامت کھوکھر نے عدالت سے غیرمشروط معافی مانگ لی اور کہا درخواست کرتا ہوں مجھےمعاف کردیا جائے، جس پت چیف جسٹس نے استفسار کیا: کیا منشا کھوکھر سے آپ کی رشتے داری ہے؟ تو کرامت کھوکھر نے جواب میں بتایا کہ جی میری برادری سے ہیں، میں نے اس بچے کو چھڑوا کر بڑی غلطی کی، معاف کر دیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا آپ نے کل عدالت میں جھوٹ کیوں بولاتھا، جس پر کرامت کھوکھر نے کہا میں نے پولیس کو اتنا ہی کہا تھا بچے کی غلطی نہیں ہے تو اسے چھوڑ دیں۔
جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ زندگی میں دوبارہ ایسی حرکت مت کیجئے گا، اراکین پارلیمنٹ کی بہت عزت کرتے ہیں، منصب کا خیال رکھنا چاہیئے۔
چیف جسٹس نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے استفسار کیا منشا کھوکھر کہاں ہیں؟ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے جواب میں بتایا منشا کھوکھر فرار ہو گیا ہے، ہم نے 6 ٹیمیں بنائی ہیں، سرگودھا میں اس کے گھر پر چھاپہ مارا ہے، ابھی تک منشا کھوکھر کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی، انٹیلی جنس ایجنسیوں سے بھی مدد لی ہے،امید ہے جلد گرفتار کرلیں گے۔
عدالت نے کہا منشا کھوکھراوراس کے بچوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں، منشا اور اس کی فیملی نے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادیں قبضے میں لیں، اگر ان جائیدادوں پر حکم امتناع نہیں تو انہیں واگزار کرایا جائے۔
چیف جسٹس نے کرامت کھوکھر اور ندیم بارا کی معافی قبول کرتے ہوئے عدالت میں تحریری معافی نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہا پولیس منشا کھوکھر کو جلد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرے۔
جسٹس ثاقب نثار نے پولیس افسر سے مکالمے میں کہ حیرت ہے شہزاد صاحب آپ منشا بم کو گرفتار نہیں کرسکے، کہیں بم شم سے تو نہیں ڈر گئے، میں تو سوچ رہا تھا، وزیراعظم کو بھی اس معاملے میں شامل کروں۔
کرامت کھوکھر نے کہا میں پولیس کے ساتھ پورا پورا تعاون کروں گا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ احسن بھون کو عدالتی معاون مقرر کر دیا اور کہا احسن بھون، شاہ خاور دونوں اراکین اسمبلی کے معافی نامے تیار کریں، کس کس طرح کے لوگ منتخب ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی معاملے کو دیکھے۔
سپریم کورٹ نے کرامت کھوکھر اور ندیم بارا کا معاملہ بھی پی ٹی آئی ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس