0
0
0
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا، شرح سود ساڑھے 8 فیصد پر پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح سود کو 120 پوانٹس تک بڑھایا جائے جس کے بعد شرح سود کو 8اعشاریہ 5 فیصد کر دیا گیا جو اس سے پہلے 7اعشاریہ 5فیصد تھی۔
پاکستان کی سیاسی صورت حال میں قابل ذکر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں جن کے کاروبار اور صارفین کے اعتماد پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جس کی عکاسی مختلف سروے سے ہوتی ہے۔
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑے جڑواں خساروں کی بنا پر معاشی صورت حال کے بارے میں خدشات برقرار ہیں کیونکہ امکان ہے کہ اس سے بلند حقیقی معاشی نمو کی پائیداری متاثر ہو گی۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً مارچ 2018ء سے اب تک مالی سال 19کے ابتدائی 2 مہینوں میں 5.8فیصد کی اوسط سطح پر رہی ہے جبکہ مالی سال 18کی اسی مدت میں یہ 3.2فیصد اور پورے مالی سال2018ء میں اس کی اوسط 3.9 فیصد تھی۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں توقع سے زیادہ بلند اضافہ ملکی گیس کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں مزید اضافہ پچھلی کمی کے اثرات کا تسلسل ہے۔
مالی سال 18 مالی سال 19 میں معاشی سرگرمی کچھ سست رہے گی کیونکہ عمومی معاشی پالیسی میں توجہ استحکام پر مرکوز کی جار ہی ہے۔ مالی سال19میں کپاس کی پیداوار 14.4ملین گانٹھوں کے ہدف سے کم رہنے کی توقع ہے، جس کے زرعی شعبے کی نمو پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر بھی کم ہو کر9.0 ارب ڈالر پر آگئے جو پہلے 9.8 ارب ڈالر تھے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس