0
1
0
علی سردار جعفری کا مختصر سفرنامہ زندگی، خود ان کی زبانی

پیدائش:
بلرام پور (ضلع گونڈہ،اودھ) 29 نومبر 1913

نام:
علی سردار، نام کا سجع والدکے ایک دوست نے کہا؛بجائے احمد مرسل ہوئے علی سردار
میرا نام اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ آج تک اس نام کا دوسرا آدمی نہیں ملا۔ ہاں سردار علی نام کسی قدر عام ہے۔ حافظ شیرازی کے ایک قصیدے میں علی سردار اس طرح استعمال ہوا ہے کہ میرےنام کا سجع بن جاتا ہے۔ میرے والد کےکتب خانے میں جو نسخہ تھا اس میں یہ قصیدہ شامل تھا۔ اس زمانے میں مولانا قاضی سجادحسین صاحب نے نئی دہلی سے جو نسخہ ترجمہ کے ساتھ شائع کیا ہے اس میں یہ قصیدہ شامل ہے۔ 
 میرے نام کا شعر یوں ہے:
علی امام و علی ایمن و علی ایمان
علی امین و علی سرور و علی سردار
معلوم نہیں یہ شعر میرے والد کی نظر میں تھا یا نہیں لیکن ہم قافیہ نام میرے ایک چچا زاد بھائی کا تھا جو عمر میں مجھ سے چند سال بڑے تھے، علی جرار، میرے والد اور چچا کے نام بھی اسی طرح غیر معمولی تھے۔سید جعفر طیار جعفری، سید حیدرکرار جعفری، سید احمد مختار جعفری، معلوم نہیں میرے بڑےبھائی ظفر عباس کا نام ان قافیوں سے الگ کیوں تھا۔

 میں نے اپنے بچپن کی ایک رباعی میں ان ناموں کو یکجا کر لیا ہے:
نور نظر احمد مختار ہوں میں
لخت جگر حیدر کرار ہوں میں
ہیں فتح و ظفر قوت بازو سردار
یعنی میر جعفر طیار ہوں میں

میرے والد اور چچا کے ناموں کےمتعلق ایک لطیفہ مشہور ہے۔ کسی نے میرے دادا سے پوچھا؛ مہدی حسن! تم نے اپنے بیٹوں کےنام جعفر طیار، حیدر کرار اور احمد مختار رکھے ہیں۔ اب چوتھا بیٹا ہوگا تو کیا نامرکھو گے؟
 میرے دادا نے برجستہ کہا؛ پاک پروردگار

والد کے ایک دوست فرخ بھیّا نےمیری پیدائش پر ایک شعر کہا تھا؛
دیا حق نے جعفر کو ثانی پسر
مبارک، خوش اقبال، پیدا ہوا

 تعلیم:
سب سے پہلے گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء
سناتے تھے۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے "سلطان المدارس" لکھنؤ بھیج دیا گیا، وہاں جی نہیں لگا۔ ایک مولوی صاحب کے گھر قیام تھا۔ وہاں بھی جی نہیں لگا اور میں فرار ہو کر بلرام پور واپس چلا گیا۔ بلرام پور کے انگریزی اسکول لائل کالجیٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔کھلی فضا تھی، اچھے استاد تھے، ہم عمر لڑکوں سے دوستیاں تھیں۔ صبح ناشتہ کر کے گھرسے اسکول جانا اور شام کو چار بجے پھر واپس آکر ناشتہ کرنا، اور میل ڈیڑھ میل دور ایک پریڈ گراؤنڈ میں پیدل جا کر دو گھنٹے کرکٹ، ہاکی کھیلنا روز کا معمول تھا۔
 اسی زمانے میں انیسؔ کے زیر اثرشاعر شروع کی۔ 1933ء میں بیس سال کی عمر میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  میں داخلہ لیا۔ ابتدائی تعلیم کے چند سال ضائع ہوگئے تھے۔
یہ ایک طوفانی زمانہ تھاجب تحریک آزادی اپنے شباپ پر تھی۔ اس عہد کے علی گڑھ نے اردو زبان کو اختر حسین رائےپوری، سبط حسن، منٹو، مجاز، جاں نثار اختر، جذبی، خواجہ احمد عباس، جلیل قدوائی، اخترانصاری، شکیل بدایونی، عصمت چغتائی اور 1940ء کے آس پاس اخترالایمان کا تحفہ دیا۔ وہاں خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر عبدالعلیم، ڈاکٹر رشید جہاں، ڈاکٹر محمد اشرف وغیرہ سے تعارف ہوا اور جن کی صحبت اور فیض نے ذوق ادب اور آزادی کے جذبے کو جلا عطا کی۔ جدیدعہد کےاردو ادب میں تقریباً 75 فیصد علی گڑھ اور ترقی پسند تحریک کی عطا ہے۔

ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا اور دہلی جا کر اینگلو عربک کالج میں داخلہ لیا۔ یہ وہ تاریخی کالج تھا جو دہلی کالج کے نام سے ایک بڑا تعلیمی کردار ادا کرچکاتھا۔و ہاں داخلہ دلوانے میں جلیل قدوائی اور اختر انصاری نے مدد کی۔ اس واقعہ کے پچاس سال بعد 1986ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈی لٹ (.D. Litt) کی اعزازی ڈگری سے عزت افزائی کی۔ یہ میرے لیے اس اعتبار سے بہت بڑا اعزاز تھا کہ مجھ سے پہلے اعزازی ڈگری شعراء کی فہرست میں علامہ اقبال، مسز سروجنی نائیڈو اور حضرت جگر مرادآبادی کو عطاکی گئی تھی۔

 جواہر لال نہرو سے اسی زمانے میں ملاقات ہوئی اور ملاقات کا یہ شرف آخر دن تک قائم رہا۔ ان کے انتقال سے دو ماہ قبل تین مورتی ہاؤس میں اندرا گاندھی نے ایک چھوٹا سا مشاعرہ پنڈت جی کی تفریح طبع کے لیےکیا تھا، جس میں فراقؔ، سکندر علی وجدؔ اور مخدوم محی الدین بھی شامل تھے۔ میں نے اپنی نظم 'میرا سفر' فرمائش پر سنائی تھی۔

 دہلی سے بی۔ اے کرنے کے بعد میں لکھنؤ آ گیا۔ پہلے مجازؔ کے ساتھ قانون کی تعلیم کے لیے ایل۔ ایل۔ بی میں داخلہ لیا۔ایک سال بعد اس کو چھوڑ کر انگریزی ادب کی تعلیم کے لیے ایم۔ اے میں داخلہ لیا۔ لیکن آخری سال کے امتحان سے پہلے جنگ کی مخالفت اور انقلابی شاعری کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا اور لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل اور بنارس سنٹرل جیل میں تقریباً آٹھ ماہ قید رہا اورپھر بلرام پور اپنے وطن میں نظر بند کر دیا گیا۔ یہ نظر بندی دسمبر 1941ء میں ختم ہوئی۔

 لکھنؤ میں سجاد ظہیر، ڈاکٹر احمدوغیرہ کی صحبت رہی۔ وہیں پہلی بار ڈاکٹر ملک راج آنند سے ملاقات ہوئی۔ 1938ء میں کلکتہ میں ترقی پسند مصنفین کی دوسری کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شانتی نکیتن جا کر ٹیگورسے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہیں بلراج ساہنی سے ملاقات ہوئی جو ہندی پڑھاتے تھے۔

1941ء میں لکھنؤ ریڈیو نے ایک مشاعرہ منعقد کیا جو سارے ہندوستان میں بڑے ذوق و شوق سے سنا گیا۔ اس کا نام تھا نوواردشعراء کا مشاعرہ جوشؔ نے صدارت کی لیکن کلام نہیں سنایا۔ فیضؔ، مجازؔ، جذبیؔ اور جاں نثار اختر نے میرے ساتھ اس مشاعرے میں شرکت کی۔ ن۔ م۔ راشد کسی وجہ سے نہیں آ سکے۔یہ نئی ترقی پسند اردو شاعری کے سات سیارے تھے جن کی تاب ناک گردش کا نغمہ آج بھی گونج رہا ہے۔ اخترالایمان نے اس کے بعد شاعری شروع کی۔ لیکن ساحرؔ اور مجروحؔ بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ سکندر علی وجدؔ ہمارے احباب میں تھے لیکن حیدرآباد کی سول سروسکی وجہ سے اس طرح کے مشاعروں میں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ان کی دو نظمیں اجنتا اورایلورا اردو شاعری کے شاہکاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔ جوشؔ، جگرؔ، فانیؔ، اصغرؔ، یگانہؔ،حسرتؔ موہانی کی شاعری کے ڈنکے بج رہے تھے۔فراقؔ کا شمار ابھی بڑے شاعروں میں نہیں ہوا تھا۔ وہ عمر میں جوشؔ اور جگرؔ کے ہم عصر تھے لیکن شاعری میں ترقی پسند تحریک کےزیر اثر عروج حاصل کیا۔ ان کی زیادہ شہرت 1947ء کے بعد ہوئی۔ ویسے ان کا شمار بہت اچھےشعراء میں پہلے سے تھا۔ 

1943ء میں بمبئی آنا ہوا۔ سجادظہیر کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے ہفتہ وار اخبار'قومی جنگ' میں صحافتی فرائض انجام دیتارہا۔ اس محفل میں بعد کو سبط حسن، مجازؔ، کیفیؔ، محمد مہدیؔ وغیرہ شامل ہوئے۔ آہستہ آہستہ بمبئی اردو ادب کا مرکز بن گیا۔ 1949ء کے بعد بمبئی میں  جوشؔ، ساغر نظامی،کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، میراجی، اخترالایمان، سجاد ظہیر، ساحرؔ،کیفیؔ، مجروحؔ، حمید اختر اور بہت سارے سربرآوردہ ادیب جمع ہوگئے۔ اس زمانے کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے ادبی اجلاس نے پوری اردو دنیا میں ایک دھوم مچا رکھی تھی۔ باہرسے آنے والے ادیب ان اجلاسوں میں بڑی مسرت سے شریک ہوتے تھے۔ پطرس بخاری سے میری ملاقات پہلی بار بمبئی میں ہوئی۔ ان کے بھائی ذوالفقار بخاری ریڈیو کے ڈائریکٹر تھے اور انسے بہت اچھے مراسم تھے۔ میری طویل تمثیلی نظم 'نئی دنیا کو سلام' اسی دور کی تخلیق ہے۔ ذوالفقار بخاری اس نظم کو ریڈیو پر ڈرامے کے انداز سے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن ملک کی تقسیم کے ساتھ وہ یہاں سے چلے گئے۔

اس عہد کی عظیم فلمی شخصیتیں ہمارےحلقہ احباب میں شامل تھیں مثلاً کے ایل سہگل، پرتھوی راج کپور، کے این سگھ وغیرہ۔ بعدکو راج کپور، نرگس اور دوسرے فلمی ستارے اس دائرے میں آ گئے۔ کیا ان کی خوبصورت داستانیں لکھنے کا موقع آئے گا۔ یہ سب کے سب ترقی پسند ادب کے دلدادہ تھے۔

اودے شنکر کا گروپ جب الموڑہ میں ختم ہو گیا تو اس کے فنکار بمبئی آ گئے اور انڈین پیوپلس تھیٹر میں شریک ہوگئے۔ اودےشنکر نے بمبئی آ کر رقص کے ذریعے سے رامائن کا ایک پروگرام مزدوروں کے لیے پردے پرپرچھائیاں کی شکل میں پیش کیا۔ ان کے بھائی روی شنکر نے 'سارے جہاں سے اچھ' کی دھن بنائی، جو اب اس ترانے کی دھن ہے۔

اس خوبصورت دور پر پھر کبھی تفصیل سے لکھا جائے گا۔ 

 1949ء میں جو ہندوستانی سیاست کا ہیجانی دور تھا اور کمیونسٹ پارٹی کی انتہا پسندی اپنے شباب پر تھی، حکومت ہند کیطرف سے پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پورے ملک میں بڑے  پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ میں بمبئی میں دوبار گرفتار کیا گیا۔ پہلی بار پندرہ دن کے لیے۔ دوسری بار ڈیڑھ سال کے لیے۔ یہ زمانہ بمبئی کے آرتھر روڈ جیل اور ناسک کی سنٹرل جیل میں گزرا۔1950ء میں یکایک رہا کر دیا گیا۔ وہ عید کی شام تھی۔ دوسرے دن صبح ہی صبح بمبئی آ کرگھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ عیدکا دن تھا۔

 ادبی تخلیقات:

نظم:
پرواز (مجموعہ) 1943ء
 نئی دنیا کو سلام (طویل تمثیلی نظم) 1948ء
خون کی لکیر (مجموعہ "پرواز" کےانتخاب کے ساتھ) 1949ء
امن کا ستارہ (دو طویل نظمیں)1950ء
ایشیاء جاگ اٹھا (طویل نظم)1951ء
 پتھر کی دیوار (مجموعہ)1953ء
ایک خواب اور (مجموعہ)1964ء
پیراہن شرر (مجموعہ) 1965ء
لہو پکارتا ہے (مجموعہ)1968ء

 نثر:
منزل (افسانے) 1938ء
یہ خون کس کا ہے (ڈرامہ) 1943ء
 پیکار (ڈرامہ) 1944ء
ترقی پسند ادب 1953ء
لکھنؤ کی پانچ راتیں 1965ء
اقبال شناسی 1969ء
  پیغمبران سخن کبیرؔ، میرؔ، غالبؔ
ترقی پسند ادب کی نصف صدی نظام اردو خطبات، دہلی یونی ورسٹی 1984ء

 فنی تخلیقات:
بولو اے سنت کبیر (ڈاکومنٹری فلم کا مسودہ) ڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
ہندوستان ہمارا (ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تہذیب پر ڈاکومنٹری فلم کا مسودہ) ڈائریکٹر خواجہ احمد عباس

لٹریری اسٹارم (The Literary Storm) انگریزی میں ڈاکومنٹر ی فلم، موضوع تحریک آزادی میں ادب کا حصہ مسودہ اور ڈائریکشن۔1857ء سے 1947ء ۔ آسامی۔ بنگالی، اڑیہ، ہندی، اردو اور انگریزی ادب کا کارنامہ (تین حصوں میں: 1857ء سے 1905ء تک، 1905ء سے 1920ء تک، 1920ء سے 1947ء تک)

ٹیلی ویژن سیریل کہکشاں:
جدیداردو شعراء کی زندگی اور شاعری: حسرتؔ، موہانیؔ، جگرؔ مرادآبادی، جوشؔ ملیح آبادی،فراقؔ گورکھپوری،  اسرارالحق مجازؔ اور مخدوم محی الدین (ڈائریکٹر جلال آغا) تحریر و تہذیب سردار جعفری

 روشنی اور آواز:
لال قلعہ، شاہ جہاں سے ہندوستان کی آزادی تک۔

روشنی اور آواز:
شالیمار باغ سرینگر، جہانگیر اور نورجہاں سے آج کے عہد تک۔ اس باغ میں لیلیٰ مجنوں کی کہانی پھولوں اور پودوں کی زبانی کہی گئی ہے۔ باغ میں بہتی ہوئی نہر وقت کا استعارہ ہے۔ پانی پرتیرتے ہوئے پھول لیلیٰ کا استعارہ ہیں اور نہر پر دونوں طرف سے جھکی ہوئی بید مجنوں کی شاخیں پھولوں کو چھو نہیں سکتیں، مجنوں کا استعارہ ہیں۔ نہر کے دونوں طرف کیاریوں میں لیمو اور سنترے کے دودو پودے جنت میں لیلیٰ مجنوں کی یکجائی کی علامت ہیں۔ ناقہ لیلیٰ کی علامت اب باقی نہیں رہ گئی ہے۔ یہ علامت سبز گھاس کے قطعات پر ٹیبلوں کی شکل میں تھی جن پر گلاب کی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔ کشمیری کہانی بھونرا اور نرگس تحریک آزادی کی کہانی سناتی ہے جس میں بھونرا مجاہد کی علامت ہے اور نرگس (محبوبہ)آزادی کی علامت۔جاڑوں کی برف پگھل جانے کے بعد جب زنبور بہار گنگناتا ہوا نرگس سے ہم آغوش ہوجاتا ہےتو آزادی کی بہار آجاتی ہے۔
 تین رنگ کے کشمیری کنول کے پھول برہما، وشنو اور شیو کی علامت کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ سرخ کنول صبح ازل کاطلوع آفتاب ہے۔ نیلا کنول کائنات کی دوپہر ہے اور سفید کنول موت کی علامت ہے جو تجدیدحیات کی آئینہ دار ہے۔

روشنی اور آواز:
تین مورتی نواس، جواہر لال نہرو کی آزادی کے بعد کی کہانی ہے۔

سابرمتی آشرم:
مہاتما گاندھی کی کہانی ہے جو ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے کیوں کہ اس کے بعدگاندھی جی احمد آباد سے منتقل ہوگئے۔

 اکابرین عالم جن سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا:
1۔ ٹیگور
2۔ مہاتما گاندھی
3۔ جواہرلال نہرو
4۔ مولانا ابوالکلام آزاد
5۔  ستیہ جیت رے
6۔ پابلو نرودا
7۔ ناظم حکمت
8۔ اہالیہ اہرن
9۔ شالوخوف
10۔ پاستر ناک
11۔ فرانسیسی شاعر لوئی آراگون
12۔ جیولیوکیوری (سائنس)
13۔ خروشچیوف
14۔ پال روبسن

 سیروسیاحت:
پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، آذربائجان، روس، سائی بیریا، عراق، یمن، مصر، یونان، بلغاریہ، برلن، (مشرقی)برلن (مغربی)فرانس،  چیکوسلواکیہ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، انگلستان، امریکہ اور کنیڈا۔

اعزاز و اکرام:
سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ (شعری مجموعہ ایک خواب اور)
پدم شری (صدر مملکت، ڈاکٹر رادھاکرشنن) شاعری کے لیے 1967ء
جواہر لال نہرو فیلوشپ۔1968-1969ء
سجاد ظہیر ایوارڈ (شاعری کے لیے)نہرو کلچرل ایسوسی ایشن، لکھنؤ 1974ء
اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ (اقبال شناسی کے لیے)1977ء
اقبال امیڈل (تمغہ امتیاز) حکومت پاکستان 1978ء
اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ(شعری مجموعہ لہو پکارتا ہے) 1979ء
مخدوم ایوارڈ، آندھرا پردیش اردو اکیڈمی (شاعری کے لیے) 1980ء
میر تقی میرؔ  ایوارڈ۔ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال (شاعری کے لیے) 1982ء
کمارن آشن ایوارڈ (ملیائی زبان کی طرف سے) تریونڈرم (طویل نغمہ ایشیا،  جاگ اٹھا، کے لیے) 1982ء
خصوصی تمغہ ماسکو (ستر سالہ جشن پیدائش پر) 1984ء
اقبال سمان، مدھیہ پردیش حکومت،بھوپال کی طرف سے (شاعری کے لیے) 1986ء
ڈی لٹ (اعزازی دکتور ادب) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی 1986ء
بین الاقوامی اردو انعام (شاعری کے لیے) اکیڈمی آف اردو لٹریچر، ٹورنٹو، کنیڈا 1988ء
گنگا دھر مہر ایوارڈ، سمبل پور یونیورسٹی (شاعری کے لیے) 1992ء
میر ایوارڈ، میرؔ  اکیڈمی، لکھنؤ(شاعری کے لیے) 1993ء
مولانا آزاد ایوارڈ، اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ 1994ء
خصوصی Emeritus فیلوشپ ڈیپارٹمنٹ آف کلچر، حکومت ہند، نئی دہلی
ظ۔ انصاری ایوارڈ، مہاراشٹر ریاست اردو اکیڈمی، 1995ء
گیان  پیٹھ ایوارڈ، 1997ء

اعزاز و اکرام (2): 
ممبر سینیٹ ( Member of the Senate) بمبئی یونیورسٹی ( 2 بار)
پروڈیوسر ایمرٹیس ریڈیو اور ٹیلیویژن 1980ء سے 1985ء تک
صدر کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین(اردو) 1977ء سے ستمبر 1990ء تک
جنرل سکریٹری کل ہند صد سالہ جشن اقبال کمیٹی 1970ء
وزیٹنگ پروفیسر، جموں یونیورسٹی،اکتوبر سے دسمبر  1983ء تک
صدر کمیٹی برائے جائزہ سفارشات گجرال کمیشن (اردو) مارچ سے ستمبر  1990ء تک 
نائب صدر، مہاراشٹر اردو اکیڈمی،بمبئی، جنوری 1994ء تک
صدر،فلم رائٹرس ایسوسی ایشن، بمبئی 1992ء سے 1993ء
کورٹ ممبر جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی
ٹرسٹی، نیشنل بک ٹرسٹ (ہند)، نئی دہلی

سجع:
(تضمین بر شعر حافظ شیرازی)
مجھے ہے بلبل شیراز سے جو نسبت خاص
عطا ہوا ہے نہ ہوگا کسی کو بھییہ وقار
ہر ایک لفظ ہے پروردگار موسم گل
ہر ایک حرف ہے گہوارہ نسیم بہار
صریر خانہ معجز رقم نوائے سروش
سرود خامشی گلبانگ گلشن اسرار
ہے شعر حافظؔ شیریں بھی سخن ترانہ جاں
ہے جس میں اسم علی مثل گوہر شہوار
"علی امام و علی ایمن و علی ایماں
علی امین و علی سرور و علی سردار"

(بہ شکریہ؛ سردار کی نادر تحریریں، مرتبہ ،ڈاکٹر محمدفیروز، ساقی بک ڈپو، دہلی،2008)

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس