28 جنوری, 2021

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے جوبائیڈن کو امریکہ کا نیا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

متوقع نتائج کے بعد صدارتی انتخابات جیتنے والے جوبائیڈن کے لیے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔برطانوی وزیراعظم نے جوبائیڈن اور کملا ہیرس کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔

ٹویٹر پرجاری تہنیتی پیغام میں بورس جانسن نے لکھا کہ جوبائیڈن کو صدر منتخب ہونے اور کملا ہیرس کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

جرمن چانسلر انجلا مرکل کا ٹویٹ:

سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا ٹویٹ:

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن:

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو:

جاپانی وزیراعظم یوشیہدے سوگا:

آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن:

صدر مملکت عارف علوی:

وزیراعظم پاکستان عمران خان:

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  جمہوریت کے بارے میں عالمی سربراہ اجلاس میں نئے منتخب صدر بائیڈن کی شرکت کا متمنی ہوں۔ غیرقانونی ٹیکس ٹھکانوں کے خاتمے اور بدعنوان رہنمائوں کی جانب سے قوم کا پیسہ چرانے والوں کے خلاف ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ہم افغانستان اور خطے میں امن کیلئے بھی امریکہ کے ساتھ کام جاری رکھیں گے

ٹرمپ کو شکست، جو بائیڈن امریکہ کے صدر منتخب

امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن ٹرمپ کو شکست دے کر صدر منتخب ہو گئے۔

منتخب صدر جوبائیڈن نے 290 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ منتخب صدر جوبائیڈن جنوری 2021ء میں عہدے کا حلف اٹھائیں گے، ریاست پنسلوینیا میں کامیابی کے بعد جوبائیڈن 46ویں امریکی صدر منتخب ہو گئے۔

نائب صدر کمالہ ہیرس کون ہیں؟ امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں کمالہ ہیرس نائب صدر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔

کمالہ ہیرس 20 اکتوبر1964ء امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ کمالہ 2003ء میں سان فرانسیکو کی اعلٰی ڈسٹرکٹ اٹارنی منتخب کی گئیں، 2010ء اور 2014ء میں کمالہ نے کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔

کمالہ 1984ء میں ڈیموکریٹک جیرالڈین فریرو اور 2008ء میں ریپبلکن سارہ پیلن کے بعد کسی بڑی جماعت کے لیے تیسری خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدارتی امیدوار تھیں جنہوں نے اب کامیابی حاصل کر لی ہے۔

دوسری جانب جوبائیڈن نے 20 نومبر 1942ء کو امریکی ریاست پینسلوانیا کے شہر اسکرینٹن کے ایک محنت کش آئرش کیتھولک خاندان میں آنکھیں کھولیں۔

سن 1968ء میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972ء میں ریاست ڈلاویئر کی ڈیموکریٹک پارٹی سے بطور کامیاب سینیٹ امیدوار اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1973ء سے2009ء تک ایک کامیاب سینیٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے