0
2
0
طالبات کی سیکورٹی سوالیہ نشان بن گئی

رپورٹر : حافظ اعجاز بشیر

صوبائی دارلحکومت لاہور میں خواتین کی ٹاپ یونیورسٹی انتظامی بحران کا شکار ،لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں وائس چانسلر ، رجسٹرار، خزانچی،کنٹرولر امتحانات ،چیف سیکورٹی سمیت تمام اہم اور حساس عہدوں پر قائم مقام تعیناتیوں سے تعلیمی وانتظامی بحران سمیت بدانتظامی اوربدنظمی پیدا ہوگئی ہے، قوائد وضوابط کی خلاف ورزیوں اورمالی بے ضابطگیوں سمیت اسا تذہ کی گروپنگ عروج پر پہنچ گئی، یونیورسٹی کے انتظام وانصرام چلانے کےلئے فنڈ بھی نامکمل،یونیورسٹی میں سیکورٹی کے موثر انتظامات نہ ہونے سے طالبات کی سیکورٹی سوالیہ نشان بن گئی،تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر صبیحہ منصور نے 10فروری2015کو عبدالغفار علی کو قائم مقام خزانہ دار کی اہم ترین آسامی پرغیر قانونی طورپرتعینات کیا ،آئینی طورپر کسی بھی اہم ترین اور بڑ ی جامعہ میں انتظامی عہدہ پر تعیناتی کےلئے چانسلر (گورنرپنجاب)کی منظوری لینا ضروری ہوتا ہے لیکن لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں الٹی گنگا بہنے لگی ہے ،جہاں گورنر پنجاب کی منظوری کے بغیر ہی خزانچی کی آسامی پر گزشتہ تین سال سے عبد الغفار کو تعینات کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار کی آسامی بھی کئی سالوں سے خالی ہے جس پرباقاعدہ تقرری نہیں کی گئی ، 4فروری 2015ءسے جامعہ میں ایڈیشنل رجسٹرارعظمیٰ بتول مگسی کو قائم مقام رجسٹرار تعینات کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف شعبہ جات میں لڑائی جھگڑے اورایک دوسرے کےخلاف درخواست بازی نے جامعہ میں انتظامی بحران کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ذرائع کے مطابق شعبہ انوائرمنٹل سائنسز کی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ مغل کو قائم مقام کنٹرولر امتحانات تعینات کیا گیا ہے،جو 10ستمبر 2014ءسے اضافی چارج سے امتحانات کے انتہائی حساس شعبہ کو چلا رہی ہیں،انکی قائم مقام تعیناتی سے نہ صر ف انکا اپنا شعبہ متاثر ہورہا ہے جبکہ شعبہ امتحانات کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں چار اہم ترین ڈین کی آسامیاں بھی خالی ہیں جس کی وجہ سے ان شعبہ جات کی کارکردگی شدید متاثر کن ہے ،جبکہ بائیو ٹیکنالوجی کی سربراہ ڈاکٹر شگفتہ نازکو ڈائریکٹر ریسرچ کا اضافی چارج دیا گیاہے حالانکہ ان پر مقالہ چوری الزام کی جھوٹی شکایت پرایچ ای سی کی طرف سے محکمانہ کاروائی کی سفارش کی گئی ہے اس کے باوجود انکو اہم ترین شعبہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں 5اکتوبر 2017ءسے سی ایس او کی اہم ترین آسامی بھی خالی ہے،گزشتہ ایک سال سے چیف سیکورٹی آفیسر کی خالی آسامی پر تعیناتی نہ ہونے پر جامعہ کی سیکورٹی کا پول کھل گیا ہے،جبکہ پرووائس چانسلر کی عدم تعیناتی سے بھی جامعہ میں ملازمین کی پرموشن،سینیورٹی سمیت دیگر تمام امور متاثر ہیں۔لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی میں آئندہ دوہفتے تک مستقل وائس چانسلر کی تقرری کردی جائیگی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس