تحریر: شاذیہ سعید

جاسوسی کا لفظ سنتے ہی نجانے کیوں جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ جاسوسی سے مراد یوں تو کسی بھی شخص یا ادارے کے خفیہ راز معلوم کرنا اور ان معلومات کو آگے پہنچانا کہلاتا ہے، جسے عام زبان میں ہم کھوج لگانا بھی کہہ سکتے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں کب، کہاں اور کیسے کوئی ہماری جاسوسی کر رہا ہے، ہم اس سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔ جاسوسی کا رجحان جنگوں کے دوران عمل میں آیا۔ جن لوگوں کو جنگوں کی تاریخ سے متعلق معلومات ہوں گی وہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہوں گے کہ جنگ لڑنے کیلئے جاسوس نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قدیم دور میں جاسوسی کے طریقے بھی پرانے تھے، جو اب نہایت پیچیدہ صورت اختیار کر گئے ہیں۔ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا حامل ایک سلجھا ہوا اور ترقی یافتہ دور ہے، اس لئے ہم جاسوسی کیلئے بھی جدید طریقے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم تمام تر ترقی کے باوجودآج بھی جاسوسی کی بنیادی شکل سن زو کے قدیم دور سے مختلف نہیں۔ جاسوسی کرنے والوں کو ہم کھوجی، سراغ رساں یا ایجنٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایجنٹ کسی شخص، تنظیم یا ملک کی حساس معلومات کسی دوسرے ملک یا تنظیم کو فراہم کرتا ہے۔ اس طرح وہ دشمن ملک یا گروپ کو معلومات فراہم کرکے اپنے ملک یا قومی تنظیم کو نقصان پہنچاتا ہے۔

کسی بھی شخص کو ایجنٹ یا جاسوس بنانے کے لئے اندھا دھند کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ جس شخص کو جاسوس بنانا مطلوب ہوتا ہے خفیہ ادارے پہلے اس کے بارے میں تمام ضروری کوائف جمع کرتے ہیں۔ اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو اس کے حکومتی عہدے، سرکاری افسران کے ساتھ تعلقات، سکول اور یونیورسٹی کی تعلیم، پاسپورٹ، شخصی معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ باقاعدہ انٹیلی جنس حکام کی ملاقات کا اہتمام کرایا جاتا ہے۔ ملاقات سے پہلے تک اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ جب اسے کسی انٹیلی جنس ادارے کے دفتر میں طلب کیا جاتا ہے اس وقت تک وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کیوں طلب کیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس مرکز میں طلب کرکے اس کی آراء، خصوصیات، ردِ عمل، اس کی خواہشات، مسائل اور دیگر معلومات لی جاتی ہیں۔ اس کے بعد اسے اپنی رضا اور رغبت کے تحت جاسوس بننے کو کہا جاتا ہے۔ اگر وہ نہ مانے تو اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ اور انٹرنیٹ جاسوس بھرتی کرنے میں معاون ہیں۔

اگرچہ انٹرنیٹ نے ٹیکنالوجی اور مواصلات کی دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے مگر اس انقلاب کا منفی پہلو انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوس تلاش کرنا اور ان سے رابطے کرنا بھی ہے۔ فیس بک اور ٹوئٹر جاسوس بھرتی کرنے کے قابل اعتبار ذرائع سمجھے جاتے ہیں۔جاسوسی کے استعمال کو نہایت خفیہ رکھا جائے، جاسوسوں کو ہمیشہ ہوشیار اور ہرکٹھن مسئلے کا مردانہ وار سامنا کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو دشمن فریق انہیں دہرے کردار کے حامل جاسوسوں کے ذریعے ٹھگ لے گا۔ جاسوسوں کو کھلے دل سے انعام و اکرام سے نوازنا چاہیے اور ان کے کام پر داد دینے میں کنجوسی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ جاسوسوں کو استعمال کرتے ہوئے بہادری سے کام لیا جائے۔ ان کے کام کے دائرے اور کارکردگی کو محدود نہ رکھا جائے۔ جاسوسوں کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ جس کام کیلئے انہیں مقرر کیاگیا ہو اس کی تکمیل کیلئے انہیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا چاہیے۔

آج ہم قدیم اور موجودہ دور کے جاسوسوں کا احوال بیان کرینگے کہ انہیں جاسوسی کے الزام میں صرف سزائے موت کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ چین میں”چو“ اور ”ہن“ ( Chu And Han)کے مابین جاری جنگ کے دوران ”چو“ کی فوج میں ”فن ژین“ نامی ایک اعلیٰ اہلکار ہوتا تھا جو ہر مسئلے کو نرمی کے ساتھ حل کرنے کیلئے مشہور تھا اس لئے چوکا حکمران ”چیانگ یو“ اس کی بہت عزت کرتا تھا۔

بادشاہ کے دربار سے وابستہ مشیر ژینگ لیانگ (Zhang Liang) اور چین پنگ اس سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ وہ جنگی منصوبہ بندی کا بہت بڑا عالم تھا۔ چین پنگ کو پتہ تھا کہ چیانگ یوشکی ذہن کا مالک ہے اس لئے اس نے دونوں فریقین میں جاری جنگ کے دوران ایک شاندار منصوبہ تیار کیا۔ اس نے قاصد کے ذریعے فن ژین کی جانب بعض تحائف اور اس کے بھتیجے فن شے کی طرف سے ایک جعلی خط بھیجا۔ اس جعلی خط میں فن شے نے اپنے چچا فن ژین کو لکھا تھا کہ وہ ”ہن“ کے حکمران بونگ کے ہاں مشیر کے طور پر کام کر رہا ہے، اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ لیو بونگ ایک سخی اور کھلے ذہن کا مالک ہے اس لئے وہ اس کی نوکری میں بے حد خوش ہے۔ قاصد جان بوجھ کر اس وقت ”چو“ کے فوجی کیمپ میں گیا جب فن ژین موجود نہ تھا، اس لئے اس نے جعلی خط اور تحائف جا کر فوجی کیمپ کے سنتری کو دے دیئے جس نے پھر یہ چیزیں ضروری سمجھ کر سیدھا جا کر بادشاہ چیانگ یو کو دے دیں۔ بادشاہ یہ خط پڑھ کرشک میں پڑ گیا۔ فن ژین واپس آ گیا۔بادشاہ چیانگ یو نے اس سے پوچھا ”کیا فن شے تمہارا بھتیجا ہے؟ جس پر اس نے اعتراف کیا اور اسے مزید بتایا کہ اس کا وہ بھتیجا فن شے تو بچپن میں ہی مر چکا ہے۔ یہ بات سن کر چیانگ یوکو مزید شک ہوگیا کہ فن ژین، لیوبونگ سے مل گیا ہے۔ اگلے برس لیویونگ اور چیانگ یو کے نمائندوں، دونوں فریقین نے معاہدے کی باتیں کیں، جب چیانگ یو کا نمائندہ ”ہن“ پہنچا تو چین پنگ نے اس کے ساتھ ڈھونگ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فن ژین سے متعلق پتہ چلا ہے کہ وہ دونوں کی باتوں اور معاہدہ کرنے پر راضی نہیں ہے اور اس نے چیانگ یو کے نمائندوں کو یہ بھی بتایا کہ شاید لیویونگ نے فن ژین کے احترام کی وجہ سے دعوت کا اہتمام کیا تھا جو اس نے اس کے نہ آنے کی وجہ سے ختم کر دیا ہے۔ جب چیانگ یو کو اس واقعہ کا پتہ چلا تو اس کا فن ژین پر شک مزید بڑھ گیا، اس کے بعد وہ فن ژین کا کوئی مشورہ نہیں سنتا تھا۔ اور ان دونوں کے مابین تعلقات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔ اس کے بعد فن ژین کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا جو اپنے شہر واپس آتے ہوئے راستے میں وفات پا گیا۔ آخری وقت تک اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ بادشاہ چیانگ اس پر کیونکر غصہ ہے، یوں بادشاہ چیانگ یو اور فن ژین کولڑا کر ایک دوسرے سے الگ کرنے کا منصوبہ کامیاب رہا۔ 

تین بادشاہوں کے زمانے میں ”وو“ کے بادشاہ ”چائویو“ نے بھی یہی منصوبہ تیار کیا جس کے نتیجے میں بادشاہ ”چائو، چائو“ نے اپنے دوسپہ سالاروں ایڈمرل یانگ اور چئنگ کو قتل کردیا۔ ان دونوں لوگوں کے قتل ہو جانے کے بعد چائوچائو نے چی بے کی جنگ میں شکست کھائی تھی۔ جاسوسی کی تاریخ میں چین کے ایک جاسوس کا قصّہ خصوصی مقام رکھتا ہے جس نے اپنی حیرت انگیز فنکاری سے ایک فرانسیسی سفارتکار کے سامنے خود کو خاتون بنا کر پیش کیا اور کئی سال تک اس کی بیوی بنا رہا حتیٰ کہ ایک بچے کو جنم دینے کا کامیاب ڈرامہ بھی کیا۔ شوہ نامی چینی شخص موسیقی اور رقص کا ماہر تھا اور فرانسیسی سفارتکار ورناڈ بوسیکاٹ کے ساتھ اس کا معاشقہ 1960ءکی دہائی میں شروع ہوا۔ چند ملاقاتوں کے دوران ہی فرانسیسی سفارتکار چینی جاسوس کے حسن کا اسیر ہوگیا۔ شوہ ہر وقت زنانہ حلیہ اختیار کئے رکھتا اور خوبصورت لباس اورمیک اپ کا استعمال کرتا جس کی وجہ سے وہ بظاہر ایک دلکش دوشیزہ نظر آتا تھا۔ جب دنوں کی قربت بڑھی تو شوہ نے برناڈ کو بتایا کہ اس کی پیدائش ایک لڑکی کے طور پر ہوئی تھی لیکن چونکہ اس کے والدین کی نرینہ اولاد نہ تھی لہٰذا انہوں نے اسے لڑکوں کی طرح پالنا شروع کردیا۔ اس نے بتایا کہ بعد ازاں اسے ہارمون بھی دیئے گئے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں کچھ مردانہ خصوصیات پیداہوگئیں لیکن اصل میں وہ عورت ہی تھا۔ بے وقوف فرانسیسی سفارتکار نے اس کہانی پر یقین کرلیا اور دونوں کا معاشقہ کئی سال تک چلتا رہا۔ اسی دوران شوہ نے برناڈ کو بتایا کہ وہ حاملہ ہو”گئی“ تھی اور جب برناڈ فرانس میں تھا تو اس نے پیغام بھیجا کہ اس کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ جب کچھ ماہ بعد برناڈ واپس آیا تو شوہ نے بتایا کہ چین میں خانہ جنگی کی وجہ سے اس نے بچے کو روس کی سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں بھیج دیا تھا۔ برناڈ اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی وجہ سے فرانس اور پھر منگولیا چلا گیا اور کچھ سال بعد واپس چین آیا تو شوہ نے اسے ایک بچے سے ملوایا اور بتایا کہ یہ ان کا بیٹا تھا۔ اس سارے عرصے کے دوران شوہ فرانسیسی سفارتکاری کی اہم معلومات برناڈ سے حاصل کرتا رہا اور فرانس کے دورے کے دوران دو مزید سفارتکاروں کے ساتھ تعلقات بڑھا کر قیمتی دستاویزات چوری کیں اور چین بھیج دیں۔ فرانس میں جب اس کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں تو بالآخر اسے گرفتار کرلیا گیا اور عدالت نے اس کے طبی معائنے کا حکم دے دیا جس میں ثابت ہوا کہ وہ مرد ہے۔ برناڈ نے جب یہ خبر سنی تو اپنے گلے پر تیز دھار بلیڈ پھیر کر خودکشی کرلی۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران ہٹلر کے جاسوسی اہلکاروں نے ایک جھوٹی اطلاع دے کر روسی جنرل توہان چیوسکی کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی، سوویت روس کی ریڈ آرمی کے جرمن جاسوس نے ایک جھوٹی اطلاع بھیجی تھی۔ جھوٹی اطلاع دینے والے ذریعے نے اس پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ جرمنی کیلئے کام کر رہا ہے اور طاقت کے ذریعے سٹالین کی قیادت کوختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جرمنی میں موجود روسی جاسوس نے یہ خفیہ اطلاع لاکھوں روبل دے کر حاصل کی تھی۔ اس اطلاع کے مطابق سپریم کمانڈ کو روس کا غدار سمجھا گیا، نتیجے کے طور پر نہ صرف جنرل توہان چیوسکی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا بلکہ دیگر کئی جنرلوں کو بھی مجرم قرار دیا گیا، یہی وجہ تھی کہ جنگ کے ابتدائی دور میں روس نے جرمنی کے ہاتھوں شکست کھائی۔ہالینڈ کی نوجوان خاتون ماتا ہری نے 1910ء کے عشرے میں پیرس میں ”برہنہ رقاصہ“ کے طور پر کیریئر بنایا۔ ماتا ہری کی رسائی فرانسیسی معاشرے کی مقتدر شخصیات تک بھی تھی اور اس کے فوجی افسروں اور سایستدانوں کے ساتھ تعلقات تھے۔ اسی بناءپر جرمن خفیہ ادارے نے اسے جاسوسہ بنایا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد فرانسیسی خفیہ ادارے نے بھی اسے اپنے لئے بطور جاسوسہ بھرتی کرنے کی کوشش کی۔ یہ پیشکش قبول کرنے پر وہ پکڑی گئی۔ 1950ء کے عشرے کے اوائل میں جولیس اور ایتھل روزن برگ کیس نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس جوڑے پر امریکہ کے ایٹمی پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات ماسکو کے حوالے کرنے کا الزام تھا۔ کچھ حلقوں نے اس جوڑے کے لئے سزائے موت کو ایک مثال قرار دیا۔ دیگر کے خیال میں یہ کمیونسٹوں سے مبالغہ آمیز خوف کی مثال تھی۔ عالمی تنقید کے باوجود روزن برگ جوڑے کو 1953ء میں سزائے موت دے دی گئی تھی۔ جرمنی میں ستّر کے عشرے میں جاسوسی کا ایک سکینڈل بڑھتے بڑھتے ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ تب وفاقی جرمن چانسلر ولی برانٹ کے مشیر گنٹر گیوم (درمیان میں) نے بطور ایک جاسوس چانسلر آفس سے خفیہ دستاویزات کمیونسٹ مشرقی جرمنی کی خفیہ سروس شٹازی کے حوالے کیں۔ اس بات نے رائے عامہ کو ہلا کر رکھ دیا کہ کوئی مشرقی جرمن جاسوس سیاسی طاقت کے مرکز تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ برانٹ کو مستعفیٰ ہونا پڑا تھا۔ سابقہ طالب علم اینتھنی بلنٹ 1979ء میں برطانیہ کی تاریخ میں جاسوسی کے بڑے سکینڈلز میں سے ایک کا باعث بنا۔ اس کے اعترافِ جرم سے پتہ چلا کہ پانچ جاسوسوں کا ایک گروپ، جس کی رسائی اعلٰی حکومتی حلقوں تک تھی، دوسری عالمی جنگ کے زمانے سے خفیہ ادارے کے جی بی کے لئے سرگرم تھا۔ تب چار ارکان کا تو پتہ چل گیا تھا لیکن پانچواں آدمی آج تک صیغہ راز میں ہے۔ جب 2010ء میں امریکی ادارے ایف بی آئی نے اَینا چیپ مین کو روسی جاسوسوں کے ایک گروپ کی رکن کے طور پر گرفتار کیا تو اسے امریکہ میں اوّل درجے کی جاسوسہ قرار دیا گیا۔ قیدیوں کے ایک تبادلے کے بعد اَینا نے روس میں فیشن ماڈل اور ٹی وی اَینکر کی حیثیت سے ایک نئے کیریئر کا آغاز کیا۔ ایک محبِ وطن شہری کے طور پر اس کی تصویر مردوں کے جریدے ”میکسم“ کے روسی ایڈیشن کے سرورق پر شائع کی گئی۔ہائیڈرون اَنشلاگ ایک خاتونِ خانہ کے روپ میں ہر منگل کو جرمن صوبے ہَیسے کے شہر ماربرگ میں اپنے شارٹ ویو آلے کے سامنے بیٹھی ماسکو میں واقع خفیہ سروس کے مرکزی دفتر سے احکامات لیتی تھی اور یہ سلسلہ عشروں تک چلتا رہا۔ آسٹریا کے شہریوں کے روپ میں ان دونوں میاں بیوی نے یورپی یونین اور نیٹو کی سینکڑوں دستاویزات روس کے حوالے کیں۔ 2013ء میں دونوں کو جاسوسی کے الزام میں سزا ہو گئی۔ حال ہی میں پاکستان سے پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو تاحال سزائے موت نہ دی جاسکی حالانکہ تاریخ تو یہی کہتی ہے کہ ایسے جاسوسوں کو موت سے کم کی سزا نہیں دی گئی۔

جاسوسی کی تاریخ میں خواتین بھی پیچھے نہیں رہیں۔ پکڑے جانے پرانہیں موت کی سزاﺅں تک کاسامنا کرناپڑا۔کچھ کو تو جیل میں ہی بقیہ زندگیاں گزارنی پڑی۔ ہالینڈ کی ڈانسراور عصمت فروش ماگریٹھا گیرٹروئڈا ذیلی نے پیر میں جنگ عظیم اوّل میں جرمنی کیلئے جاسوسی کی۔ ان کی خدمات فوجی کیپٹن جارجز لاڈوکس نے حاصل کیں۔ انہیں جرمن حکومت اور فرانسیسی موکلات کی معلومات حاصل کرنےکا کام دیا گیا تھا۔ 1917ء میں فرانسیسی انٹیلی جنس نے اس ڈانسرکی جاسوسی کاعلم ہوگیا اور گرفتاری کے بعد اور15ستمبر 1917ء کو انہیں گولیاں مار کر موت کی نیند سلادیا گیا۔ سیسل وتھرنگٹن نے جنگ عظیم اوّل میں جرمن کنٹرول کے علاقوں سے فرانسیسی افواج کو بچ نکلنے میں اپنا کردار ادا کیا پیرس میں پیدا ہونیوالی سیسل نے1943ء میں فرانس میں ہتھیاروں کی سمگلنگ کیلئے خفیہ کوریئر کے طورپر کام شروع کیا۔ جب اس کے اعلیٰ افسران گرفتار ہوئے تو اس نے اپنے جنگجووﺅں کی کمان سنبھالی اور جرمن فوج کے خلاف 14گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ کی قیادت کی، جس میںایک ہزارجرمن فوجی ہلاک اور 18ہزارسے زائد نے ہتھیار ڈال دیئے۔ نیوزی لینڈمیں پیدا ہونیوالی صحافی نینسی ویک نے 1940ء کی دہائی کی ابتداء میں فرینج ریززٹنس موومنٹ میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد برطانوی فوجیوں کو فرانس سے نکلنے میں مدد دلوانا تھا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس