0
0
0
بھارت میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اب متعدد ریاستوں میں سنیما گھروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ سنیما گھروں میں ایس او پیز کے ساتھ گنجائش سے 50 فیصد کم لوگوں کو بٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز  8مہینوں کےبعد ہندوستان کے کچھ حصوں میں سینما گھروں کی پہلی بار افتتاحی تقریب ہوئی،  لیکن جلد ہی کسی بھی وقت بالی ووڈ کی بڑی ریلیز نہیں ہونے کی وجہ سے ، سنیما گھروں کو پریشانی لاحق ہے کہ آیا شائقین کو بڑی اسکرین پر واپس کیسے لایا جاسکتا ہے۔

COVID-19 وبائی امراض کے آغاز کے بعد ، اس سال مارچ میں ملک نے ایک سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد سے ہی ہندوستان کی تقریبا10،000 فلمی اسکرینیں بند ہیں۔

چونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تدریجی اقدامات میں آسانی پیدا کرنے پر زور دیا ہے ، کچھ ریاستوں نے تھیٹروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سینما مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سماجی فاصلے کا خیال رکھیں اور سینما میں 50 فیصد لوگوں کو آنے کی اجازت دیں اور اس کے ساتھ ہی سخت پابندیاں عائد ہیں۔

شمالی ہندوستان کے شہر پریاگراج میں ایک فلم دیکھنے آنے والے رمیش گپتا نے کہا ”یہ اچھا محسوس ہوتا ہے … گھر بیٹھے ہر شخص کو یہاں آنا اچھا لگتا ہے۔“

رپورٹ کے مطابق اگرچہ تاحال بھارت میں تیزی سے کرونا کے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے سینما ہالز کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

اگرچہ سینما مالکان حکومتی ہدایات پر عمل کرتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم اس باوجود زیادہ فلمی شائقین سینما ہالز سے دور دکھائی دے رہی ہیں، جس کی وجہ نئی فلموں کا نہ ہونا ہے۔

حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد بھارت کی متعدد ریاستوں کے بڑے اور اہم شہروں میں محدود پیمانوں پر سینما اسکرینز کو کھولا گیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سینما مالکان کے پاس ریلیز کے لیے اچھی اور نئی فلمیں ہی موجود نہیں۔

ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے سی ای او شیباسش سرکار کا کہنا ہے کہ یہ ایک مرغی اور انڈے کی صورتحال ہے۔ اگر ہم فلم ریلیز کرتے ہیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ فلمی شائقین آئیں گے بھی یا نہیں۔

سینما کھولے جانے کے بعد مالکان نے پرانی با لی وڈ فلمیں لگانا شروع کی ہیں اور فلموں میں نریندر مودی کی زندگی پر بنائی گئی فلم بھی شامل ہے، جسے ابتدائی طور پر 2019ء کے آغاز میں ہی ریلیز کیا گیا تھا علاوہ ازیں سینما مالکان نے شائقین کو سینما تک آنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے دیگر ایکشن اور رومانٹک فلمیں بھی ریلیز کی ہیں۔

کرونا کے باعث 8 ماہ تک سینما بند رہنے کی وجہ سے با لی ووڈ پروڈکشن ہاؤسز نے اپنی فلمیں نیٹ فلیکس، ایمازون اور زی فائیو جیسے ویب اسٹریمنگ چینلز پر ریلیز کرنا شروع کی ہیں۔

فلموں کی آن لائن ریلیز کے باعث سینما مالکان کے پاس نئی فلموں کی قلت پڑجانے سے بھارت میں سینما انڈسٹری کے بحران کے شکار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں مجموعی طور پر سالانہ ایک ہزار یا اس سے زائد ہندی اور دیگر زبانوں میں فلمیں تیار ہوتی ہیں اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری مانا جاتا ہے تاہم اس کے باوجود اب بھارتی سینما مالکان کے پاس ریلیز کرنے کے لیے نئی فلمیں ہی موجود نہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس