0
0
0
صدر مملکت عارف علوی کی اہلیہ خاتون اول ثمینہ علوی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ پاکستانی ڈرامے یکساں موضوعات کی وجہ سے بالکل نہیں دیکھتیں انہیں پاکستانی ڈرامے دیکھنے سے ڈپریشن ہو جاتا ہے کیوں کہ ان میں کوئی بھی ڈھنگ کی چیز نہیں دکھائی جاتی۔

انڈیپینڈنٹ اردو کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں خاتون اول نے ایون صدر میں قیام کے بارے اور پاکستانی ڈراموں سمیت کئی موضوعات پر گفتگو  کی.

انٹر ویو میں خاتون اول نے ایوان صدر میں آمد اور اب تک کے قیام کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں یہاں آنا بہت اچھا لگا۔ ایوان صدر تو ایک طرف لیکن میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں اتنا بڑا موقع دیا۔ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم یہاں آئیں گے یہ تو ٹرانزیشن ہے یہ ہمارا گھر تو نہیں ہے۔

انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ یہاں ایک عوامی ذمہ داری کے تحت آئے ہیں۔ جب اللہ تعالی نے اتنا بڑا مقام دیا ہے تو اس بارے میں سوال و جواب بھی ہو گا۔ ایوان صدر انجوائے کر کے آئیں یا کچھ کام بھی کیا۔

ثمینہ علوی نے کہا کہ ملکی معاشی صورت حال کوئی زیادہ اچھی نہیں لہٰذا اس عمارت پر موجودہ حالات میں زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا جا سکتا  کفایت شعاری کر کے پھلوں کے درخت لگوائے تاکہ آنے والی نسلیں فائدہ اٹھا سکیں۔



خا تون اول نے کہا کہ ایون صدر کی دیکھ بھال نہیں تھی ملک کی اتنی بڑی اہم ترین عمارت میں پانی لیک ہوتا ہے یہ جگہ نظرانداز شدہ تھی تو میں نے مرمت کروائی اور زیادہ ہریالی کا بندوبست کیا دنیا آتی ہے یہاں پاکستان کی چیز ہے تو اچھا دکھنا چاہیے میں نے یہاں کافی ٹیبلز پر پاکستان کی دلکشی پر مبنی کتابیں رکھوائیں تاکہ دوسرے ممالک کے لوگ اور سفیر یہاں کی خوبصورتی دیکھ سکیں۔

انٹر ویو میں پاکستانی ڈراموں سے متعلق بات کرتے ہوئے خاتون اول نے ا نکشاف کیا کہ وہ پاکستانی ڈرامے یکساں موضوعات کی وجہ سے بالکل نہیں دیکھتیں انہیں پاکستانی ڈرامے دیکھنے سے ڈپریشن ہوجاتا ہے کیوں کہ ان میں کوئی بھی ڈھنگ کی چیز نہیں دکھائی جاتی۔

ثمینہ علوی کے مطابق پاکستانی ڈراموں میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں کیا جا رہا اور انہوں نے اس مسئلے پر کچھ ٹی وی شخصیات سے بات بھی کی تو کہتے ہیں دیگر موضوع ریٹنگ نہیں دیتے لیکن میرے خیال میں آپ اچھی چیز بنائیں گے تو لوگ ضرور سراہیں گے۔



انہوں نے ملک میں نئی نسل میں منشیات کے استعمال کو بھی ڈراموں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

خاتون اول کا کہنا تھا کہ وہ البتہ ڈراموں جگہ ٹاک شوز ابھی بھی باقاعدگی سے دیکھتی ہیں.

ملک میں جنسی زیادتی کے واقعات پر انہیں بھی شدید تشویش ہے اور کہتی ہیں کہ ماسوائے کسی سخت اقدام کے اس پر شاید قابو نہ پایا جا سکے ہمیں کوئی ایسا مضبوط قدم لینا چاہیے جس سے آدمی کو شاک لگے تاہم یہ شاک یا دھچکہ کس قسم کا ہو سکتا ہے اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے ترک ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اچھا ڈرامہ ہے اور اس میں کسی بھی چیز کو غیر مہذب طریقے سے نہیں دکھایا گیا۔

خاتون اول نے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مہذب شخصیت کی مالک خاتون قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ان کے ساتھ ہر موضوع پر کھل کر اور اچھے طریقے سے بات کی۔

بیگم ثمینہ علوی نے وزیر اعظم کی اہلیہ کے حوالے سے عام عوام میں پائے جانے والے خیالات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ وہ ہر موضوع پر اچھی دسترس رکھتی ہیں اور ان کی شائستہ گفتگو سے ان کی مہذبانہ شخصیت کا اقرار ہوتا ہے انٹرویو میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور وزیر اعظم عمران خان کی بار بار تعریف بھی کی.



انٹرویو کے دوران انہوں نے صدر مملکت سے سیاسی مسائل پر ہونے والی بحث پر بھی بات کی اور بتایا کہ وہ اپنے شوہر کو صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کرنے سمیت انہیں حل کرنے کے لیے کہتی رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی تینوں بیٹیاں اور بیٹا بھی دندان ساز ہے اور وہ اب پریکٹس کر رہے ہیں جب کہ بیٹے سمیت بڑی بیٹی کو سیاست میں بہت زیادہ دلچسپی بھی ہے۔

خاتون اول کے مطابق ان کی بڑی بیٹی اپنے خاندان سمیت دبئی میں مقیم ہیں جہاں وہ بطور ڈینٹسٹ کام کر رہی ہیں اور ساتھ ہی وہ سیاست میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔

خیال رہے کہ ثمینہ علوی اپنے شوہر کے ہمراہ ستمبر  2018ء میں کراچی سے اسلام آباد ایوان صدر منتقل ہوئی تھیں۔

ان کے شوہر عارف علوی 4 ستمبر 2018ء کو پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ جولائی 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم پارٹی نے انہیں صدر بنانے کا فیصلہ کیاعارف علوی نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر عہدہ صدارت سنبھالا تھا اور وہ ستمبر میں اہل خانہ سمیت ایوان صدر منتقل ہوگئے تھے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس