28 جنوری, 2021

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی جی 20 ممالک کی ورچوئیل سربراہی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم نے عالمی سطح  پر صحت عامہ کو درپیش کووڈ 19 کے خطرے سے مقابلے کے لیے اس کی تشخیص، علاج اور ویکسین کے لیے کی جانے والی تحقیق، تیاری اور پیداوار کے لیے درکار تمام مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا  کہ جی 20 ممالک پوری دنیا کو کورونا ویکسین کی شفافیت کے ساتھ یکساں رسائی اور قابل خرید بنانے کے لیے کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس میں کروونا وائرس کے باعث معاشی طور پر متاثر ہونے والے ممالک کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔

اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے  سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث دنیا کے مستقبل کو لاحق خطرات سے مقابلے کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ جی 20 ممالک کے اجلاس ایسے وقت ہورہا ہے جب امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں کرونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر چکی ہے اور عالمی سطح پر وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 5 کروڑ 77 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 13 لاکھ 80 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے امریکی کمپنی فائزر ویکسین کی تیاری میں کامیابی کا اعلان کرچکی ہے اسی طرح چین ، روس اور دیگر ممالک اور کمپنیوں کی جانب سے بھی اہم پیش رفت کے اعلانات ہو چکے ہیں۔

دنیا میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ ابتدائی طور پر یہ ویکسین امیر ممالک کو ملے گی اور غریب ممالک و طبقات اس سے محروم رہیں گے۔ جی 20 اجلاس میں اس پہلو پر غور کیا گیا اور روسی صدر نے ضرورت ممالک کو اپنے ملک میں تیار ہونے والی ویکسین فراہم کرے کی پیشکش بھی کی تھی جبکہ اجلاس کے اعلامیے میں پوری دنیا کو ویکسین کی فراہمی کے لیے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے