17 جنوری, 2021
1 145
خبریںافریقہبین الاقوامی

لگڑبگوں کے غول نے سوتے شخص کو گھسیٹ کر ہلاک کر ڈالا

یہ خوفناک واقعہ زمبابوے کے ایک گاؤں میں رونما ہوا جہاں 87 سالہ ٹینڈائی ماسیکا گارے اور گھاس سے بنی جھونپڑی میں سو رہا تھا۔ آدھی رات کو لگڑبگوں نے اسے بستر سے کھینچا اور کئی سو فٹ دور لے گئے اور وہاں اس پر تیزدانتوں سے حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

کچھ دیر بعد گاؤں والے شور سے بیدار ہوئے اور انہوں نے اسے تلاش کیا تو گھر سے کئی سو میٹر دور اس کی لاش ملی جس کا اوپری نصف حصہ غائب تھا۔ زمبابوے کے وسط میں واقع دیہی علاقے چیرومانزو میں رونما ہونے والے اس واقعے کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے جانوروں کی تلاش شروع کر دی ہے تاکہ انہیں ختم کیا جا سکے۔

زمبابوے کی وائلڈ لائف اتھارٹی کے ترجمان تیناشے فاراوو نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ  چیرومانزو میں 87سالہ بزرگ کو لگڑ بگوں نے حملہ کر کے مارڈالا ہے۔ وہ اپنی جھونپڑی میں سورہے تھے کہ یہ دلخراش واقعہ رونما ہوا اور جانوروں نے 300میٹر تک انہیں گھسیٹا۔ جسم کو گھسیٹنے اور خود چوپایوں کے نشانات سے ظاہر ہے کہ انہیں گھر سے دور لے جایا گیا تھا۔

اس علاقے میں بکریوں اور مویشیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں اور لگڑ بگوں کو ان کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ٹینڈائی ماسیکا کی تدفین کے بعد انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں کے دروازے بند رکھنےاور رات کے وقت ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔ جنگلی حیات کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں بصورتِ دیگر انہیں آبادیوں سے دور منتقل کرنے پر ایک عرصے سے غور ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سال خشک سالی کا راج ہے اور اسی بنا پر خونخوار جانور اب آبادیوں میں گھس آئے ہیں۔ محتاط اندازے کے بعد بوڑھے شخص پر کم ازکم چھ لگڑ بگوں نے حملہ کیا تھا۔ اس سال پورے زمبابوے میں  ہاتھیوں نے 30 افراد مارڈالے ہیں۔ 3افراد شیر کے شکار ہوئے ہیں اور ایک واقعے میں میاں بیوی بھی لگڑبگوں کا نوالہ بنے چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے